Last Updated on March 19, 2026 1:07 am by BIZNAMA NEWS
سکنیہ سمرِدھی یوجنا اور مہِلا سمان بچت سرٹیفکیٹ کے کھاتوں کی تعداد بالترتیب 3.83 کروڑ اور 37.3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے (بتاریخ 28 فروری 2026)
انڈیا پوسٹ کے قائم کردہ ملک گیر آدھار مراکز نے 14.72 کروڑ سے زائد لین دین مکمل کئے
پوسٹ آفس پاسپورٹ سیوا کیندروں نے 2.09 کروڑ سے زیادہ درخواستوں اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹس کو کامیابی سے پراسیس کیا ہے
AMN / NEW DELHI
محکمۂ ڈاک اپنے 1.64 لاکھ سے زائد ڈاک خانوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے 47 کروڑ سے زیادہ پوسٹ آفس بچت بینک (پی او ایس بی) کھاتہ داروں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ پی او ایس بی اپنی بچت اسکیموں جیسے پوسٹ آفس بچت اکاؤنٹ (پی او ایس اے)، ٹائم ڈپازٹ اکاؤنٹ (ٹی ڈی)، ریکرنگ ڈپازٹ اکاؤنٹ (آر ڈی)، ماہانہ آمدنی اکاؤنٹ (ایم آئی ایس)، سینئر شہری بچت اسکیم (ایس سی ایس ایس)، پبلک پراویڈنٹ فنڈ (پی پی ایف)، سکنیہ سمرِدھی اکاؤنٹ (ایس ایس اے)، نیشنل سیونگز سرٹیفکیٹ (این ایس سی)، کسان وکاس پتر (کے وی پی) اور پی ایم کیئرز فار چلڈرن اسکیم کے ذریعے مالی شمولیت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ محکمہ سماجی تحفظ کی اسکیموں، پنشن، براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) اور سبسڈی کی رقوم کو مستحقین کے پوسٹ آفس بچت کھاتوں کے ذریعے تقسیم کرنے میں نہایت مؤثر ثابت ہوا ہے۔ مزید برآں، سکنیہ سمرِدھی یوجنا (ایس ایس وائی) اور مہِلا سمان سیونگز سرٹیفکیٹ (ایم ایس ایس سی)، جن کے کھاتوں کی تعداد بالترتیب 3.83 کروڑ اور 37.3 لاکھ ہے (بتاریخ 28 فروری 2026)، بچیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور خواتین کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انڈیا پوسٹ نے ملک بھر میں 13,352 آدھار مراکز قائم کیے ہیں، جہاں مستقل مراکز کے ساتھ ساتھ موبائل کٹس کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بایومیٹرک اور آبادیاتی معلومات کی تازہ کاری کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس اقدام کے تحت اب تک 14.72 کروڑ سے زائد لین دین مکمل کیے جا چکے ہیں، جس سے خاص طور پر بزرگوں اور دیہی آبادی کو فائدہ پہنچا ہے کیونکہ انہیں طویل فاصلے طے کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ان خدمات کو ڈاک کے نظام میں شامل کر کے محکمہ ضروری شناختی سہولیات اور براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) تک آسان رسائی کو یقینی بناتا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے تعاون سے محکمۂ ڈاک 452 پوسٹ آفس پاسپورٹ سیوا کیندروں (پی او پی ایس کیز) کو چلا رہا ہے، جن کا مقصد ہر لوک سبھا حلقے میں ایک مرکز قائم کرنا ہے۔ یہ مراکز دستاویزات کی تصدیق اور بایومیٹرک اندراج سمیت جامع خدمات فراہم کرتے ہیں اور اب تک 2.09 کروڑ سے زائد درخواستوں اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹس کو کامیابی سے پراسیس کر چکے ہیں۔ یہ شراکت داری خصوصاً قبائلی، نیم شہری اور دیہی علاقوں میں پاسپورٹ خدمات تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بناتی ہے۔
انڈیا پوسٹ پیمنٹ بینک (آئی پی پی بی) بھی شہری مرکز خدمات فراہم کرتا ہے، جن میں ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹس (ڈی ایل سی)، آدھار فعال ادائیگی نظام (اے ای پی ایس)، شہریوں کے لیے آدھار میں موبائل نمبر کی تازہ کاری، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے چائلڈ انرولمنٹ لائٹ کلائنٹ (سی ای ایل سی) خدمات شامل ہیں۔
محکمۂ ڈاک نے اپنے ٹیکنالوجی پر مبنی شکایات کے انتظامی نظام (سی ایم ایس) کو بھی جدید بنایا ہے، جو 07.03.2025 کو ایڈوانسڈ پوسٹل ٹیکنالوجی (اے پی ٹی) 2.0 کے تحت متعارف کرایا گیا۔ اس جدید نظام میں صارفین کے ساتھ براہِ راست تعامل پر مبنی شکایت کے ازالے کا طریقہ کار شامل ہے، جس کے تحت شکایت اسی وقت بند کی جاتی ہے جب اس کا حل شکایت کنندہ کے ساتھ شیئر کیا جائے اور اس کی رضامندی حاصل ہو۔ اختلاف کی صورت میں خودکار طور پر اعلیٰ سطح پر معاملہ بھیجنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں مواصلات و دیہی ترقی کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر نے فراہم کی۔




