Last Updated on April 4, 2026 4:57 pm by BIZNAMA NEWS

عندلیب اختر
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت اور غذائی نظام کے لیے بھی سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے اپنی تازہ رپورٹس میں خبردار کیا ہے کہ خلیج فارس میں جاری جنگ نے عالمی سطح پر اجناس کی ترسیل، کھاد کی فراہمی اور خوراک کی قیمتوں کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر یہ بحران طویل ہوا تو دنیا کے کئی ممالک میں غذائی عدم تحفظ اور مہنگائی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز: عالمی تجارت کی اہم شہ رگ
دنیا کی توانائی اور تجارت کے لیے آبنائے ہرمز ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ یہی وہ تنگ آبی گزرگاہ ہے جس کے ذریعے خلیجی ممالک سے تیل، گیس اور دیگر اہم اجناس دنیا بھر تک پہنچتی ہیں۔ عام حالات میں دنیا بھر کے خام تیل کا تقریباً 35 فیصد، عالمی کھاد کی تجارت کا تقریباً 30 فیصد اور مائع قدرتی گیس کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔تاہم جنگی حالات کے باعث اس اہم راستے میں بحری آمد و رفت تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں 90 سے 95 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ یہ صورت حال عالمی تجارت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس راستے میں رکاوٹ عالمی منڈیوں میں توانائی اور زرعی اجناس کی قیمتوں کو تیزی سے متاثر کرتی ہے۔
عالمی غذائی تحفظ کو خطرہ
ایف اے او کے چیف ماہر معاشیات میکسیمو توریرو نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ زرعی پیداوار اور خوراک کی فراہمی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ان کے مطابق کسان اس وقت دوہرے دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک طرف ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جبکہ دوسری جانب کھاد مہنگی اور نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ زرعی شعبے میں ایندھن اور کھاد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے۔اگر یہ بحران جلد ختم ہو جائے تو عالمی منڈیاں تین ماہ کے اندر سنبھل سکتی ہیں، تاہم اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا ناکہ بندی مزید چند ماہ جاری رہی تو اس کے اثرات اگلے زرعی سیزن تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس صورت میں کئی علاقوں میں فصلوں کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔
کھاد کی قلت اور زرعی بحران
انکٹاڈ کی رپورٹ کے مطابق موجودہ کشیدگی کا سب سے بڑا اثر کھاد کی عالمی فراہمی پر پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر نائٹروجن پر مبنی کھادوں کی تیاری میں قدرتی گیس بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور اس گیس کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔بحری نقل و حمل میں خلل کے باعث کھاد کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے جبکہ گیس اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے سبب کھاد کی پیداواری لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عالمی سطح پر کھاد کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسانوں کو مناسب مقدار میں کھاد نہ مل سکے تو فصلوں کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر عالمی خوراک کی فراہمی اور قیمتوں پر پڑے گا۔
عالمی منڈیوں میں بے یقینی
بحری جہازوں کے راستے بدلنے اور طویل سفر کے باعث عالمی تجارت کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاز اب خطرناک سمندری علاقوں سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں جس سے سفر کا دورانیہ اور ایندھن کی کھپت دونوں بڑھ رہے ہیں۔اس صورتحال نے نہ صرف عالمی منڈیوں بلکہ امدادی اداروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ انسانی امداد پہنچانے والے اداروں کے لیے خوراک اور ضروری سامان کی ترسیل مہنگی اور سست ہو گئی ہے، جس سے بحران زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق اس بحران کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ سکتا ہے۔بھارت ، سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک اس وقت زرعی سرگرمیوں کے لیے کھاد اور ایندھن کی ضرورت ہے۔ اگر ان اشیا کی قیمتیں بڑھیں یا فراہمی متاثر ہو تو ان ممالک کی زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔افریقی ممالک بھی خطرے کی زد میں ہیں کیونکہ ان میں سے کئی ممالک کھاد کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اگر کھاد مہنگی یا نایاب ہو گئی تو وہاں خوراک کی پیداوار میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔اسی طرح قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک، جو بڑی مقدار میں خوراک درآمد کرتے ہیں، انہیں بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ جنگی حالات کے باعث کئی جہاز اس خطے کا رخ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
یہ بحران صرف درآمد کنندگان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بڑے زرعی برآمد کنندگان بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر عالمی تجارت میں خلل بڑھتا ہے تو ان ممالک کی برآمدی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ اگر تیل کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں تو بایو فیول کی صنعت کو فروغ مل سکتا ہے کیونکہ کچھ ممالک خوراکی اجناس کو ایندھن بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اس سے کسانوں کو فائدہ تو ہو سکتا ہے مگر خوراک کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کا بوجھ عام صارفین کو اٹھانا پڑے گا۔
ممکنہ حل اور عالمی تعاون
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری اور طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ مختصر مدت میں ممالک کو متبادل سمندری راستے تلاش کرنے ہوں گے تاکہ ضروری اجناس کی ترسیل جاری رہ سکے۔درمیانی مدت میں حکومتوں کو کھاد کی درآمد کے ذرائع متنوع بنانے، علاقائی ذخائر کو مضبوط کرنے اور خوراک کی برآمدات پر پابندیاں لگانے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمزور معیشتوں کو مالی امداد فراہم کرنا بھی ضروری ہو گا تاکہ وہ زرعی پیداوار جاری رکھ سکیں۔طویل مدت میں ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عالمی غذائی نظام کو بھی توانائی اور دفاعی شعبوں کی طرح اسٹریٹجک اہمیت دی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ممالک کو خوراک کی پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے نظام میں زیادہ سرمایہ کاری کرنا ہو گی تاکہ مستقبل میں ایسے عالمی بحرانوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ایک نازک عالمی صورتحال
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بظاہر ایک علاقائی تنازع ہے، مگر اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، کھاد کی قلت اور خوراک کی بڑھتی قیمتیں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ عالمی معیشت اور غذائی نظام ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔اگر عالمی برادری نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ بحران صرف اقتصادی مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ دنیا کے کئی خطوں میں غذائی عدم تحفظ اور انسانی بحران کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ کے ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تجارتی راستوں کو کھلا رکھا جائے اور عالمی تعاون کے ذریعے اس بحران کا جلد حل تلاش کیا جائے۔AMN
Andalib Akhter

