Last Updated on March 16, 2026 7:50 pm by BIZNAMA NEWS
ایل پی جی کے دباؤ کے درمیان مٹی کے تیل اور کوئلے کو متبادل ایندھن کے طور پر اجازت

عندلیب اختر
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں بھارت حکومت نے ایندھن کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کے لیے بعض عارضی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت مٹی کے تیل (کیر وسین)، کوئلے اور بایو ماس جیسے متبادل ایندھن کے محدود استعمال کی اجازت دی گئی ہے تاکہ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس پس منظر میں کیا گیا ہے جب عالمی توانائی منڈی میں اچانک اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کے خدشات ایسے ممالک کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہوتے ہیں جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق خام تیل کی قیمت، جسے Brent Crude کہا جاتا ہے، حالیہ دنوں میں 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے نے نہ صرف عالمی توانائی منڈی میں تشویش پیدا کی ہے بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے لاگت میں اضافہ بھی کیا ہے۔بھارت اپنی کل خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی معمولی تبدیلیاں بھی ملک کی توانائی کی معیشت اور گھریلو ایندھن کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔ اسی پس منظر میں حکومت نے متبادل ایندھن کے محدود استعمال کی اجازت دے کر ایک احتیاطی حکمت عملی اختیار کی ہے۔
ایل پی جی کی طلب کم کرنے کی حکمت عملی
حکومت نے ہوٹلوں، ریستورانوں، ڈھابوں اور دیگر کمرشل کچن کو عارضی طور پر مٹی کے تیل، کوئلے اور بایو ماس جیسے ایندھن استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد تجارتی شعبے میں ایل پی جی کی کھپت کم کرنا ہے تاکہ گھریلو صارفین کے لیے اس کی دستیابی متاثر نہ ہو۔بھارت میں اس وقت کروڑوں گھرانے روزمرہ کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر کمرشل سیکٹر میں اس کی کھپت زیادہ بڑھ جائے تو گھریلو صارفین کو سپلائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے حکومت نے متبادل ایندھن کے استعمال کی اجازت دی ہے۔
اس سلسلے میں حکومت نے ریاستوں کے لیے مٹی کے تیل کی اضافی فراہمی کا بھی اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 48 ہزار کلو لیٹر اضافی کیروسین ریاستوں کو فراہم کیا جائے گا۔ یہ ایندھن عوامی تقسیم کے نظام (PDS) اور مجاز ایندھن مراکز کے ذریعے ضرورت کے مطابق دستیاب کرایا جائے گا۔
چھوٹے کاروبار اور صنعت کے لیے کوئلے کی فراہمی
حکومت نے سرکاری کوئلہ کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ چھوٹے کاروباروں اور صنعتی یونٹوں کے لیے کوئلے کی مناسب فراہمی کو یقینی بنائیں۔ بعض چھوٹے کاروباری ادارے، خاص طور پر وہ جو بڑے پیمانے پر کھانا پکانے یا حرارتی عمل میں ایندھن استعمال کرتے ہیں، عارضی طور پر کوئلے کو متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔حکومتی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ قدم صرف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور اسے مستقل پالیسی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ جیسے ہی عالمی توانائی منڈی میں استحکام آئے گا، اس طرح کے عارضی انتظامات ختم کر دیے جائیں گے۔
صاف توانائی کی جانب طویل مدتی حکمت عملی
اگرچہ موجودہ حالات میں مٹی کے تیل اور کوئلے جیسے روایتی ایندھن کے محدود استعمال کی اجازت دی گئی ہے، تاہم بھارت کی طویل مدتی توانائی پالیسی صاف اور پائیدار توانائی کے فروغ پر مرکوز ہے۔حکومت کی اہم اسکیم Pradhan Mantri Ujjwala Yojana کے تحت اب تک کروڑوں غریب خاندانوں کو ایل پی جی کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد دیہی اور کم آمدنی والے گھرانوں کو لکڑی، کوئلہ اور مٹی کے تیل جیسے روایتی اور آلودگی پیدا کرنے والے ایندھن سے دور کر کے صاف توانائی کی طرف منتقل کرنا ہے۔اسی طرح حکومت نے National Green Hydrogen Mission کے ذریعے گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کو فروغ دینے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو مستقبل میں صاف توانائی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ FAME India Scheme کے تحت برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ فوسل فیول پر انحصار کم کیا جا سکے۔
توانائی کی سلامتی اور ماحولیات کا توازن
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک کے لیے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ناگزیر ہے۔ عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے بحران یا جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات سے بچنے کے لیے توانائی کی فراہمی کو مختلف ذرائع پر مبنی بنانا ضروری ہے۔اگرچہ مٹی کے تیل اور کوئلے کا محدود استعمال فوری طور پر سپلائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں ملک کی ترجیح صاف، ماحول دوست اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہی رہے گی۔
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں بھارت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ایک طرف توانائی کی سلامتی کو یقینی بنائے اور دوسری طرف ماحولیاتی اہداف کو بھی برقرار رکھے۔ اس کے لیے حکومت، صنعت اور صارفین کو مشترکہ طور پر پائیدار توانائی کے استعمال کی
طرف بڑھنا ہوگا۔-AMN





