Last Updated on March 16, 2026 7:33 pm by BIZNAMA NEWS

ملالہ یوسف زئی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں 2026 کے بین الاقوامی یوم خواتین کے جشن کے دوران اقوام متحدہ کے نشان کے ساتھ ایک پوڈیم پر بول رہی ہیں۔

UN Women/Ryan Brown

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہی ہیں۔

عالمی سطح پر خواتین کی صورتحال سے متعلق کمیشن (سی ایس ڈبلیو) کے 70ویں اجلاس میں انصاف تک خواتین کی رسائی بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا میں صنفی عدم مساوات اب بھی خطرناک صورت میں برقرار ہے۔

صنفی مساوات کے لیے دنیا کے اس سب سے بڑے عالمی فورم میں افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا میں اب بھی مردانہ بالادستی کا ماحول ہے۔ اس وقت جس قدر صنفی مساوات دیکھنے میں آتی ہے وہ خواتین اور لڑکیوں کی نسل در نسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی معاشروں میں امتیازی قوانین اور پدرشاہی روایات آج بھی موجود ہیں۔ عالمی سطح پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں صرف 64 فیصد قانونی حقوق حاصل ہیں۔ یہ فرق حادثاتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے جس کے باعث خواتین کے لیے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ 

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ اس اجلاس میں ایسے رہنماؤں کے درمیان موجود ہیں جو عدم مساوات کو ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

خواتین کی عالمی آواز

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ گزشتہ 70 برس سے یہ کمیشن خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم اور ملاقات کی جگہ رہا ہے۔ امسال اس اجلاس کا موضوع انصاف تک مساوی رسائی ہے جو برابری کے لیے ہونے والی جدوجہد کا بنیادی عنصر ہے۔

انہوں نے تنازعات کے دوران ہونے والے جنسی تشدد کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران اس میں 87 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مسلح تنازعات سے دوچار علاقوں میں انصاف کی عدم موجودگی تشدد کی ایک اور شکل بن جاتی ہے۔ جب مجرموں کو سزا نہیں ملتی تو بربریت بڑھتی ہے اور متاثرین کی آوازیں دب جاتی ہیں جس سے معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور بدسلوکی کا سلسلہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے یہ کمیشن کے افتتاحی اجلاس سے ان کا آخری خطاب ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ الوداعی خطاب نہیں بلکہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے مساوات اور انصاف کے لیے ان کی مستقل وابستگی کا اظہار ہے۔

صنفی مساوات کی لازمی شرط

کمیشن کے 70ویں اجلاس کی چیئرپرسن ماریزا چن والوردے نے کہا کہ انصاف تک رسائی صرف حق نہیں بلکہ وقار، بااختیاری اور معاشرتی ترقی کی بنیاد اور صنفی مساوات کے حصول کی لازمی شرط ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس کے متفقہ نکات رکن ممالک کے ساتھ کئی ماہ کی مشاورت کے بعد تیار کیے گئے ہیں جو تمام ممالک کو عملی اقدامات کرنے اور اس اہم مسئلے پر نئے عالمی معیارات طے کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ان اقدامات میں مقامی سطح پر انصاف فراہم کرنے والے کرداروں کو باضابطہ تسلیم کرنا، انصاف تک رسائی کے معاملے میں میں صنفی نقطہ نظر کو اہمیت دینا اور ڈیجیٹل انصاف اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی سے متعلق نئی اصطلاحات متعارف کرانا شامل ہیں۔

جدوجہد اور کامیابیوں کا جشن

70ویں اجلاس کا آغاز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں عالمی یوم خواتین کی اعلیٰ سطحی تقریب سے ہوا۔

اس موقع پر گریمی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ اور براڈوے سٹار مشیل ولیمز نے موسیقی پیش کی اور اپنا نغمہ ‘ہمیں کسی سے خوف نہیں’ گایا جو دنیا بھر کی خواتین اور لڑکیوں کی طاقت اور حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

تقریب کے آغاز میں یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بحوث نے کہا کہ عالمی یوم خواتین ان نسلوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے جن کی ہمت اور عزم نے دنیا بھر میں صنفی مساوات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خواتین کے حقوق کی سمت میں پیش رفت کو آج نئے مسائل اور مزاحمت کا سامنا ہے، تاہم ان مسائل کا مقابلہ کیا جائے گا۔

خواتین کی ہمت کا اعتراف

معروف امریکی اداکارہ اور یو این ویمن کی خیر سگالی سفیر این ہیتھاوے نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایک عجیب اور پیچیدہ مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں صنفی مساوات کا وعدہ اب بھی بہت سی خواتین اور لڑکیوں کے لیے پورا نہیں ہوا۔

انہوں نے ایسی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے تشدد اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان میں ملالہ یوسفزئی جیسی شخصیات اور وہ متاثرین شامل ہیں جنہوں نے ذاتی قربانیوں کے باوجود انصاف کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج خواتین کی ہمت اور طاقت کا جشن منایا جا رہا ہے جنہوں نے ایک ایسے معاشرے میں خاموش رہنے سے انکار کیا جہاں ان سے خاموشی کی توقع کی جاتی تھی۔

UN Women/Ryan Brown

منظم صنفی عصبیت

نوبیل امن انعام یافتہ اور لڑکیوں کی تعلیم کی علمبردار ملالہ یوسفزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر میں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران اور غزہ جیسے علاقوں میں تشدد اور تنازعات سے متاثرہ خاندانوں کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے دکھی ہیں۔ حقیقی انصاف وہ نہیں جو ایک جگہ بچوں کی انسانیت کا احترام کرے اور دوسری جگہ اسے نظر انداز کر دے۔

ملالہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو ثانوی تعلیم اور یونیورسٹیوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے جبکہ خواتین کو ملازمت، نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس صورتحال کو صنفی عصبیت کی منظم شکل قرار دیا جائے۔

افغان طالبہ کی اپیل

اجلاس میں شریک افغان طالبہ اور موسیقار سنبل ریحا نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات کا مطالبہ کیا۔ جب وہ جنرل اسمبلی کے سٹیج پر آئیں تو انہیں بھرپور داد ملی اور شرکا نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔

انہوں نے افغانستان میں خواتین پر عائد پابندیوں کے اثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ موسیقی ان کی زندگی ہے جو افغانستان میں پروان چڑھی اور وہ بخوبی جانتی ہیں کہ کسی لڑکی کی آواز دبانے کا کیا مطلب ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے اسے خود محسوس کیا ہے۔

سنبل نے دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش مشکلات، تعلیم میں رکاوٹوں، تشدد اور جبر کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ نسلوں کی جدوجہد سے حاصل ہونے والے حقوق بعض جگہوں پر خطرے میں ہیں۔

تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوجوان ہار نہیں مان رہے اور ان جیسی لڑکیاں مشکل حالات کے باوجود سیکھ رہی ہیں۔

UN Photo/Evan Schneider

خواتین کی صورتحال پر کمیشن

یہ کمیشن صنفی مساوات، خواتین کے حقوق اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والا اقوام متحدہ کا مرکزی عالمی ادارہ ہے جسے 1946 میں اقتصادی و سماجی کونسل (ایکوسوک) نے قائم کیا تھا۔ یہ خواتین کے حقوق کے لیے عالمی معیارات طے کرنے اور صنفی مساوات کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہر سال حکومتیں، اقوام متحدہ کے ادارے اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں دو ہفتوں پر مشتمل اجلاس میں شریک ہوتی ہیں۔ اس اجلاس میں بیجنگ اعلامیہ اور پلیٹ فارم فار ایکشن کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے اور آئندہ اقدامات کے لیے ترجیحات طے کی جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *