Last Updated on April 5, 2026 3:20 pm by BIZNAMA NEWS

از اے ایم این نیوز ڈیسک

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران کی شہری ایٹمی تنصیبات، خصوصاً بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ممکنہ خطرناک نتائج پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے حملوں سے پورا خطہ تابکاری آلودگی کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔

ہفتہ کے روز اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو بھیجے گئے یکساں خطوط میں عراقچی نے کہا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی حملے اس حقیقت کے باوجود کیے گئے کہ یہ تمام تنصیبات مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے وقف ہیں اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے جامع حفاظتی نظام کے تحت کام کر رہی ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ “یہ غیرقانونی حملے پورے خطے کو تابکاری آلودگی کے خطرے سے دوچار کرتے ہیں، جس کے سنگین انسانی اور ماحولیاتی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔”

ایرانی وزیرِ خارجہ نے نشاندہی کی کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران ایران کو دو جنگی جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق ایک امریکہ کی جانب سے، جو جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ (NPT) کا امین ہے، جبکہ دوسری اسرائیل کی طرف سے، جو اس معاہدے کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں مواقع پر ایران کی پُرامن ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

عراقچی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز اور اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ان حملوں کی نہ تو مذمت کی اور نہ ہی مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا۔

انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ “اب امریکی اعلیٰ حکام، جو بین الاقوامی انسانی قانون کو ‘بے وقوفانہ’ قرار دیتے ہیں، کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ جوہری تنصیبات بھی ان کے ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔” عراقچی کے مطابق اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے مستقل نمائندے نے بھی یہ اشارہ دیا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ “امکانات سے خارج نہیں ہے۔”

بوشہر کے قریب حملوں پر شدید تشویش

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بوشہر کے فعال ایٹمی پاور پلانٹ کے قریب بار بار حملے انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان کے مطابق کسی فعال ایٹمی تنصیب کے اتنے قریب حملہ ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہے جو تابکاری کے اخراج کے سنگین خطرے کو جنم دے سکتی ہے۔

عراقچی نے مزید کہا کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا بورڈ ایران کی محفوظ ایٹمی تنصیبات پر واضح غیرقانونی حملوں کے باوجود خاموش رہتا ہے تو رکن ممالک کا ان اداروں پر اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے اور عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کا نظام مزید کمزور پڑ جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس بے عملی کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سے ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی۔ اس کارروائی کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ان حملوں میں ایران بھر میں فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔

اس کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے مغربی ایشیا میں امریکی مفادات اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی ٹھکانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔