Last Updated on March 16, 2026 8:02 pm by BIZNAMA NEWS

جاوید اختر
مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحری سلامتی کے خدشات نے عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے International Maritime Organization (آئی ایم او) نے اپنی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ خلیج فارس، بحیرہ? عرب اور خلیج عمان میں جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی تجارت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔یہ اجلاس 18 اور 19 مارچ کو لندن میں واقع آئی ایم او کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہو رہا ہے اور اسے کونسل کے متعدد رکن ممالک کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔ اجلاس کی صدارت ہسپانوی نمائندے Víctor Jiménez کر رہے ہیں۔ کونسل، جس میں تقریباً 40 ممالک شامل ہیں، آئی ایم او کا اہم انتظامی ادارہ ہے اور عالمی بحری پالیسیوں کے اہم فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل Arsenio Dominguez نے اجلاس سے قبل جہاز رانی کی صنعت، بندرگاہی حکام اور سمندری سلامتی کے ماہرین کے ساتھ مسلسل مشاورت کی ہے تاکہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز: عالمی توانائی کا حساس راستہ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث سب سے زیادہ تشویش Strait of Hormuz کی صورتحال کو لے کر پائی جا رہی ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ خلیج فارس کو بحیرہ? عرب سے جوڑتا ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات اس راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔
موجودہ کشیدگی کے باعث اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور کئی بڑی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کرنے شروع کر دیے ہیں۔ سمندری انشورنس کمپنیوں نے بھی خطرات میں اضافے کے باعث پریمیم میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارت کی لاگت بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عالمی تیل منڈی میں ہلچل
اس بحران کے اثرات صرف جہاز رانی تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی توانائی منڈی بھی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے توانائی کے عالمی ادارے International Energy Agency (آئی ای اے) کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی اجلاس کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے محفوظ ذخائر سے تقریباً چار کروڑ بیرل تیل عالمی منڈی میں جاری کریں گے۔
یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور عالمی منڈی میں قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Fatih Birol نے اجلاس کے بعد کہا کہ تیل کی عالمی منڈی کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق چونکہ توانائی کی منڈی عالمی نوعیت کی ہے، اس لیے اس میں پیدا ہونے والے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے بھی مشترکہ اور مربوط اقدامات ضروری ہیں۔آئی ای اے کے رکن ممالک کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 120 کروڑ بیرل کے اسٹریٹجک تیل ذخائر موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان ذخائر کا اجرا عالمی توانائی منڈی کو وقتی استحکام فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
تیل کی ترسیل میں شدید کمی
مشرقِ وسطیٰ میں 28 فروری سے جاری جنگ نے خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل دونوں کو متاثر کیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی تیل کی برآمدات اس وقت تنازع سے پہلے کی سطح کے دس فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں۔
کئی علاقائی تیل تنصیبات یا تو عارضی طور پر بند ہو چکی ہیں یا ان کی پیداوار محدود کر دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی توانائی سپلائی چین میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔بحری سلامتی کے ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تجارت کے لیے نہ صرف توانائی بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
عالمی جہاز رانی کے لیے بڑھتے خطرات
عالمی شپنگ کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ کئی جہاز رانی کمپنیوں نے اپنے بحری جہازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے سفر کا دورانیہ اور اخراجات دونوں بڑھ رہے ہیں۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران 2021 میں Suez Canal Blockage 2021 کے دوران پیدا ہونے والے عالمی تجارتی تعطل سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس مرتبہ مسئلہ صرف ایک نہر تک محدود نہیں بلکہ عالمی توانائی سپلائی کے اہم ترین راستے سے متعلق ہے۔
عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات
معاشی ماہرین کے مطابق اگر تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں طویل عرصے تک برقرار رہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ نقل و حمل، صنعت اور خوراک کی پیداوار کے اخراجات کو بڑھا سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ایشیا اور یورپ کے کئی ممالک پہلے ہی متبادل توانائی ذرائع اور اضافی ذخائر کے انتظام پر غور کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سپلائی بحران سے نمٹا جا سکے۔
آئی ایم او کے ہنگامی اجلاس میں توقع کی جا رہی ہے کہ رکن ممالک جہاز رانی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کریں گے۔ اس میں بحری نگرانی میں اضافہ، جہازوں کے لیے محفوظ راستوں کی نشاندہی اور خطے میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کس قدر حساس سمندری راستوں پر منحصر ہے۔ اگرچہ عالمی ادارے فوری اقدامات کے ذریعے بحران کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے بغیر اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔





