Last Updated on March 16, 2026 7:28 pm by BIZNAMA NEWS

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کو بتایا گیا ہے کہ ذاتی معلومات کی آن لائن پراسیسنگ کو محفوظ بنانے کے اقدامات نہایت ضروری ہیں تاکہ ڈیجیٹل دور میں اخلاقی طرز عمل کو یقینی بنایا جا سکے اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔
حق اخفا پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ اینا برائن نوگریرس نے کونسل کے 61ویں اجلاس میں اس مسئلے پر اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معلومات کی منتقلی سے متعلق موجودہ بین الاقوامی قواعد ناکافی ہیں جس سے لوگوں کے حق اخفا کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب پہلی مرتبہ لوگوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ کی ضرورت محسوس کی گئی تھی اس وقت کے مقابلے میں آج ٹیکنالوجی کا ماحول ڈرامائی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ نے قانون کے سامنے کئی نئے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ ان میں ایسے مسائل خاص طور پر اہم ہیں جن کا تعلق مختلف ممالک سے ذاتی معلومات جمع کرنے سے ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ ضوابط کے تحت انٹرنیٹ کو ایک واضح قانونی مظہر کے طور پر متعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی جامع اور قانونی طور پر پابند نظام موجود ہے جو رازداری کی خلاف ورزی کا شکار ہونے والے افراد کے حقوق کا مکمل تحفظ کر سکے۔
حق اخفا اور ناکافی قوانین
خصوصی نمائندہ کی رپورٹ کے مطابق، معلومات کی منتقلی سے متعلق رہنما اصول بین الاقوامی سطح پر معلومات اکٹھا کرنے کے عمل پر لاگو نہیں ہوتے کیونکہ اس معاملے میں معلومات کسی واضح فرد یا ادارے کی جانب سے نہیں آ رہی ہوتیں کہ انہیں ان کے اصل ملک کے اداروں سے کنٹرول کیا جا سکے۔
اینا نوگریرس کا کہنا تھا، ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے اربوں افراد کہیں سے بھی دوسرے لوگوں کی معلومات جمع کر سکتے ہیں چاہے وہ افراد کسی اور ملک میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں۔ اس طرح عالمی سطح پر ذاتی معلومات جمع کیے جانے سے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی معاہدے کی تجویز
خصوصی نمائندہ نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک بین الاقوامی معاہدہ تیار کریں جو ایسے مسائل کا جامع حل پیش کرے اور افراد کے حقوق کا موثر تحفظ یقینی بنائے۔
انہوں نے رکن ممالک کو ترغیب دی کہ وہ ذاتی معلومات کی پراسیسنگ سے متعلق اپنے قومی اور مقامی قوانین کے دائرۂ کار میں تبدیلی لائیں تاکہ ان کا اطلاق ملکی حدود سے باہر اور خصوصاً ایسے معاملات میں بھی ہو سکے جہاں ذاتی معلومات بین الاقوامی سطح پر جمع کی جا رہی ہوں۔
یہ رپورٹ خصوصی نمائندہ جانب سے 2024 میں جنرل اسمبلی کو پیش کی گئی رپورٹ کی تکمیل کرتی ہے جس میں اسمبلی کی قرارداد 45/95 بعنوان ‘کمپیوٹرائزڈ ذاتی ڈیٹا فائلوں کے ضوابط سے متعلق رہنما اصول’ کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔





