
Last Updated on March 21, 2026 5:03 pm by BIZNAMA NEWS
، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے ہدف کے قریب پہنچ چکا ہے
AMN
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان Donald Trump نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ Iran کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو ممکنہ طور پر کم یا ختم کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اسی دوران امریکہ نے خطے میں مزید فوجی دستے بھی بھیج دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے فوجی مقاصد کے قریب پہنچ چکا ہے اور اسی وجہ سے جنگی کارروائیوں کو “سمیٹنے” پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم دوسری جانب امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق تقریباً 2500 میرینز اور بحری اہلکار اضافی طور پر خطے میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ان دستوں کے ساتھ جنگی بحری جہاز بھی بھیجے جا رہے ہیں تاکہ خلیج میں امریکی فوجی طاقت کو بڑھایا جا سکے۔ (Reuters)
یہ تعیناتی اس وقت کی جا رہی ہے جب امریکہ اور Israel کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کو تین ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ پہلے ہی خطے میں تقریباً 50 ہزار فوجیوں کی موجودگی رکھتا ہے اور اضافی دستوں کی تعیناتی سے یہ فوجی طاقت مزید بڑھ جائے گی۔ (Reuters)
ادھر جنگ کے دوران ایران نے بھی مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں، جس سے عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ (
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے بیانات اور فوجی تیاریوں سے ایک متضاد صورتحال پیدا ہو گئی ہے—ایک طرف جنگ کو ختم کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف فوجی طاقت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مستقبل اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے بارے میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ()
ایران کی جوابی کارروائی سے کشیدگی میں اضافہ
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور Israel کے حملوں کے بعد ایران نے اپنی جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس ہفتے اسرائیل نے ایران کے ایک اہم گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
اس کے جواب میں ایران نے دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی (LNG) پلانٹ کو نشانہ بنایا جو Qatar میں اسی گیس فیلڈ کے دوسری جانب واقع ہے۔ اس حملے کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی اور تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔
گیس فیلڈ پر مزید حملے روکنے کی کوشش
عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اسرائیل ایران کے اس گیس فیلڈ پر مزید حملے نہیں کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر ہونے سے بچانا اور منڈیوں میں استحکام پیدا کرنا بتایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے بھی تصدیق کی کہ امریکی صدر کی درخواست پر اسرائیل اس گیس فیلڈ پر مزید حملے نہیں کرے گا، کیونکہ یہی فیلڈ ایران کی بجلی کی بڑی ضرورت پوری کرتی ہے۔
عالمی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے امریکی اقدام
ادھر امریکہ نے عالمی تیل کی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ امریکی حکومت نے 30 دن کے لیے پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے سمندر میں پھنسے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد عالمی منڈی میں فوری طور پر اضافی تیل فراہم کرنا اور قیمتوں میں تیزی کو کم کرنا ہے۔
ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی اس سمت میں اقدامات کر رہی ہے اور عالمی منڈی میں تقریباً 44 کروڑ اضافی بیرل تیل فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عالمی منڈیوں کی نظریں مشرقِ وسطیٰ پر
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں کی نظریں اس خطے پر مرکوز ہیں۔ اگر حالات میں بہتری آتی ہے تو تیل اور گیس کی قیمتوں میں استحکام ممکن ہے، تاہم کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں عالمی توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ٹرمپ کے حالیہ اشاروں سے فی الحال یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔








