Last Updated on May 10, 2026 1:37 pm by BIZNAMA NEWS
یو پی آئی میں بڑا بدلاؤ ممکن
این پی سی آئی اے آئی پر مبنی اے۲اے ورک فلو سے کمپلائنس پروسیس تیز کرے گا
بھارت کی فوری ادائیگی کا نظام یو پی آئی مسلسل ترقی کر رہا ہے اور اس میں نئے فیچرز اور اپڈیٹس تیزی سے شامل کیے جا رہے ہیں۔ اس پس منظر میں این پی سی آئی نے کمپلائنس کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اے۲اے ورک فلو پر غور شروع کیا ہے۔ اس ماڈل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس بینکوں اور این پی سی آئی کے درمیان براہِ راست بات چیت کریں گے تاکہ سرٹیفیکیشن اور ٹیسٹنگ کا وقت کم ہو جائے۔ فی الحال بینکوں کو یو پی آئی کے آپریشنل سرکلر کے مطابق سرٹیفیکیشن کے لیے چار سے آٹھ ہفتے لگتے ہیں، لیکن نئے ورک فلو سے یہ مدت ایک ہفتے یا دس دن تک محدود ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف رفتار بڑھے گی بلکہ یو پی آئی جیسے ڈائنامک پروڈکٹ میں خودکار طریقے سے مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوگی۔ این پی سی آئی نے اس سال کے آغاز میں فائنانس ماڈل فار انڈیا (FIMI) بھی لانچ کیا ہے، جو یو پی آئی سمیت بھارتی ادائیگی نظام کی پیچیدگیوں کو مقامی انداز میں سمجھنے اور تنازعات کو حل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ مستقبل میں زیادہ تر بات چیت ایجنٹک فلو کے ذریعے ہوگی، لیکن حتمی منظوری اور سرٹیفیکیشن کے لیے انسانی نگرانی برقرار رہے گی۔
۲
ای وی خریدنے کا سنہری موقع
بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں پر بھاری رعایتیں جاری
بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں کا بازار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بڑی کمپنیاں جیسے ٹاتا موٹرز، ہنڈائی، مہندرا اور ایم جی موٹر اپنے مشہور ماڈلز پر بھاری رعایتیں دے رہی ہیں۔ اپریل میں بھی 50 ہزار روپے سے لے کر 4 لاکھ روپے تک کی رعایت جاری رہی۔ مارچ میں ہنڈائی آیونک 5 پر 10 لاکھ روپے تک کی رعایت نے خریداروں کو حیران کر دیا تھا اور اس کے بعد سے صارفین کا رویہ بدل گیا ہے۔ اب چھوٹی رعایتیں بھی خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رعایتیں کمزور مانگ کی وجہ سے نہیں بلکہ ڈھانچہ جاتی عوامل، پرانے اسٹاک کو ختم کرنے کی ضرورت اور بڑھتی ہوئی مسابقت کی وجہ سے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹاتا کَرو ای وی پر اب بھی 3 لاکھ روپے سے زیادہ کی رعایت ہے، جبکہ ٹیاگو ای وی اور نیکسون ای وی پر 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک کی رعایت جاری ہے۔ مارچ میں زبردست فروخت کے بعد اپریل میں بھی فروخت مستحکم رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رعایتوں نے ای وی مارکیٹ کو نئی سمت دی ہے۔
2
رائل اینفیلڈ کا نیا مینوفیکچرنگ ہب
آندھرا پردیش میں 2,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری
موٹر سائیکل ساز کمپنی رائل اینفیلڈ نے آندھرا پردیش کے تروپتی ضلع کے ستیہ ویدو میں نیا مینوفیکچرنگ پلانٹ اور وینڈر پارک قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے پر 2,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی اور اس سے تقریباً 5,000 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ریاستی حکومت نے اس منصوبے کے لیے زمین مختص کر دی ہے اور اس سے کمپنی کی پیداواری صلاحیت میں 9 لاکھ یونٹ کا اضافہ ہوگا۔ یہ اقدام بھارت کو عالمی سطح پر پریمیم موٹر سائیکل مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر مزید مضبوط کرے گا۔
منصوبے کا پہلا مرحلہ 2029 تک مکمل ہوگا جبکہ دوسرا مرحلہ 2032 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس کے ساتھ ایک وینڈر پارک بھی بنایا جائے گا تاکہ سپلائرز کو آندھرا پردیش میں لایا جا سکے اور آٹو موبائل مینوفیکچرنگ کلسٹر کو فروغ دیا جا سکے۔ /
۴
ایلون مسک کی نیا بینکنگ پلیٹ فارم
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک جلد ہی ایک نئے بینکنگ اور پیمنٹس پلیٹ فارم کو لانچ کرنے جا رہے ہیں جو ان کے ایکس کو ایک ’ایوری تھنگ ایپ‘ میں بدلنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔بینکنگ پلیٹ فارم۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایکس منی نامی اس مالیاتی فیچر کا محدود آغاز آئندہ دنوں میں متوقع ہے، تاہم ریگولیٹری رکاوٹیں اب بھی اس کی راہ میں حائل ہیں۔ایکس پہلے ہی امریکا کی درجنوں ریاستوں میں لائسنس حاصل کر چکا ہے جبکہ کمپنی گزشتہ سال ویزا کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کر چکی ہے تاکہ ڈیجیٹل والیٹ اور پیئر ٹو پیئر پےمنٹ سروس کو سپورٹ کیا جا سکے۔ٹیکنالوجی اپڈیٹس۔اطلاعات کے مطابق یہ فنانشل سروس پلیٹ فارم ’زبردست فوائد‘ بھی پیش کرے گا، جن میں 6 فی صد منافع والا سیونگ اکاؤنٹ اور کچھ ٹرانزیکشنز پر 3 فیصد کیش بیک شامل ہیں۔ٹیک ارب پتی ایلون مسک نے 2023 میں ٹوئٹر کا نام بدل کر ایکس رکھنے کے کچھ ہی مہینوں بعد ایک ’ایوری تھنگ ایپ‘ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے یہ پلیٹ فارم 2022 مین خریدا تھا۔

