Last Updated on July 26, 2026 1:19 pm by BIZNAMA NEWS

جاوید اختر
قومی زرعی و دیہی ترقیاتی بینک (نابارڈ) کے جولائی 2026 کے تازہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی بھارت میں آمدنی کی رفتار نمایاں طور پر سست پڑ گئی ہے، جس کے باعث لاکھوں خاندانوں کی مالی حالت دباؤ کا شکار ہے۔ سروے کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 52.6 فیصد دیہی خاندانوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ 19.8 فیصد خاندانوں کی آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ صرف 27.7 فیصد خاندانوں نے اپنی آمدنی بڑھنے کی اطلاع دی، جو ستمبر 2024 میں سروے کے آغاز کے بعد سب سے کم شرح ہے۔نابارڈ نے یہ سروے ملک بھر کے 20 ہزار دیہی خاندانوں کے درمیان کرایا، جس میں آمدنی، اخراجات، روزگار، بچت، قرض اور مہنگائی سے متعلق ان کی توقعات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ آمدنی کی رفتار کمزور پڑی ہے، لیکن گھریلو اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور دیہی خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کر رہے ہیں۔
آمدنی کمزور، مگر اخراجات میں مسلسل اضافہ
سروے کے مطابق 74.1 فیصد خاندانوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے گھریلو یا صارفانہ اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اوسطاً ایک دیہی خاندان اپنی 66.5 فیصد ماہانہ آمدنی صرف اشیائے صرف اور روزمرہ ضروریات پر خرچ کر رہا ہے۔
اس کے برعکس صرف 13.6 فیصد آمدنی بچت کے لیے مختص کی جا رہی ہے، جبکہ 12.5 فیصد آمدنی پرانے قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے اخراجات اور محدود آمدنی کے باعث دیہی خاندانوں کی بچت کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، جس سے مستقبل میں مالی استحکام مزید کمزور پڑ سکتا ہے۔
روزگار اور آمدنی کے حوالے سے اعتماد میں کمی
رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں مستقبل کے حوالے سے اعتماد بھی پہلے کے مقابلے میں کمزور ہوا ہے۔ اگلے تین ماہ میں روزگار کے مواقع بہتر ہونے کی امید صرف 39.3 فیصد خاندانوں نے ظاہر کی، جبکہ اسی مدت میں اپنی آمدنی بڑھنے کی توقع رکھنے والے خاندانوں کی شرح 41.2 فیصد رہی، جو اب تک کے تمام سرویز میں سب سے کم ہے۔اگرچہ طویل مدت کے حوالے سے 69.6 فیصد خاندانوں کو امید ہے کہ آئندہ ایک سال میں ان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، تاہم موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر ان کے خدشات بھی برقرار ہیں۔
مہنگائی سے متعلق خدشات میں اضافہ
سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دیہی خاندانوں میں مہنگائی کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ جولائی 2026 کے سروے میں جواب دہندگان نے اندازہ لگایا کہ آئندہ ایک سال کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد رہ سکتی ہے۔یہ تخمینہ مارچ 2026 کے سروے میں 4.4 فیصد تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چند ہی ماہ میں مہنگائی سے متعلق عوامی توقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب آمدنی کی رفتار سست ہو اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہو تو اس کا براہ راست اثر دیہی معیشت، گھریلو بجٹ اور صارفین کے اعتماد پر پڑتا ہے۔
قرض اور مالی دباؤ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 23.6 فیصد دیہی خاندان اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے صرف غیر رسمی ذرائع، جیسے رشتہ داروں، مقامی ساہوکاروں یا دیگر نجی ذرائع سے قرض لینے پر انحصار کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق رسمی بینکاری نظام تک محدود رسائی اور کمزور آمدنی کے باعث ایسے خاندان زیادہ مالی خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔
سروے کے اہم نکات
- 52.6 فیصد خاندانوں کی آمدنی میں گزشتہ ایک سال کے دوران کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
- 19.8 فیصد خاندانوں کی آمدنی میں کمی آئی۔
- صرف 27.7 فیصد خاندانوں نے آمدنی بڑھنے کی اطلاع دی۔
- 74.1 فیصد خاندانوں کے گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوا۔
- اوسطاً 66.5 فیصد ماہانہ آمدنی روزمرہ کے استعمال پر خرچ ہوتی ہے۔
- 13.6 فیصد آمدنی بچت میں جاتی ہے۔
- 12.5 فیصد آمدنی پرانے قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوتی ہے۔
- 23.6 فیصد خاندان صرف غیر رسمی ذرائع سے قرض لیتے ہیں۔
- آئندہ ایک سال کے لیے اوسط مہنگائی کا تخمینہ 5.8 فیصد لگایا گیا ہے۔
دیہی معیشت کے لیے اشارہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ دیہی بھارت میں کھپت اب بھی برقرار ہے، لیکن اس کی بنیاد مضبوط آمدنی نہیں بلکہ ضروری اخراجات ہیں۔ اگر آمدنی میں اضافہ نہ ہوا اور مہنگائی بلند رہی تو اس سے دیہی طلب، بچت، سرمایہ کاری اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی روزگار، زرعی آمدنی میں اضافہ، مالی شمولیت اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات آئندہ عرصے میں پالیسی سازوں کے لیے اہم ترجیحات ہوں گے۔
