Last Updated on July 26, 2026 1:14 pm by BIZNAMA NEWS

عندلیب اختر

دنیا میں بھوک کی شدت اگرچہ مسلسل تیسرے سال کم ہوئی ہے، لیکن اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے ایک تشویشناک حقیقت سامنے رکھی ہے کہ موجودہ پیش رفت عالمی ہدف کے مقابلے میں انتہائی سست ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہر تیرہواں انسان اب بھی بھوک کا شکار ہے، جبکہ دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی لوگوں کو مناسب خوراک تک باقاعدہ رسائی حاصل نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی توانائی اور کھاد کی قیمتیں، اور امدادی فنڈز میں کمی عالمی غذائی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے، جس کے باعث 2030 تک بھی کروڑوں افراد بھوک سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO)، زرعی ترقی کے بین الاقوامی فنڈ (IFAD)، اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال (UNICEF)، عالمی پروگرام برائے خوراک (WFP) اور عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی مشترکہ رپورٹ “دنیا میں غذائی تحفظ اور غذائیت کی صورتحال” کے مطابق 2025 میں دنیا کی 7.8 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد بھوک یا غذائی قلت کا شکار رہے۔ یہ شرح 2024 میں 8.1 فیصد اور 2022 میں 8.6 فیصد تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر صورتحال میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، لیکن رفتار انتہائی سست ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مختلف خطوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال یکساں نہیں۔ ایشیا، لاطینی امریکہ اور کیریبین کے ممالک نے حالیہ برسوں میں بھوک میں نمایاں کمی لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ افریقہ مسلسل سنگین بحران سے دوچار ہے۔ پہلی مرتبہ افریقہ دنیا کا وہ خطہ بن گیا ہے جہاں بھوک کا شکار افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال افریقہ میں 30 کروڑ 90 لاکھ افراد مناسب خوراک سے محروم رہے، جبکہ ایشیا میں یہ تعداد 29 کروڑ 20 لاکھ رہی۔ اگرچہ افریقہ میں بھوک کی شرح 2024 کے 20.3 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 20 فیصد تک آ گئی، لیکن آبادی میں تیز رفتار اضافے کے باعث بھوک سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد مزید بڑھ گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں افریقہ کو غذائی تحفظ کے حوالے سے مزید سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں صرف بھوک ہی نہیں بلکہ غذائی عدم تحفظ کی مجموعی صورتحال بھی تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ اس کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں تقریباً دو ارب 10 کروڑ افراد درمیانے یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں یا تو مناسب مقدار میں خوراک میسر نہیں آئی یا پھر انہیں غذائیت سے بھرپور خوراک کی بجائے کم معیار کی خوراک پر گزارا کرنا پڑا۔ اگرچہ یہ صورتحال کووڈ۔19 وبا کے عروج کے زمانے کے مقابلے میں کچھ بہتر ہوئی ہے، تاہم وبا سے پہلے کے دور کے مقابلے میں دنیا اب بھی زیادہ غیر محفوظ غذائی حالات سے گزر رہی ہے۔

خطوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو افریقہ میں 56.6 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار رہی، جبکہ ایشیا میں یہ شرح 20.3 فیصد، لاطینی امریکہ اور کیریبین میں 22.9 فیصد اور شمالی امریکہ و یورپ میں صرف 8.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار دنیا میں خوراک کی دستیابی اور معاشی مواقع کے درمیان موجود گہری عدم مساوات کو نمایاں کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری مسلح تنازعات، آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی، موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، سیلاب اور انسانی امداد میں کمی عالمی غذائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ ایف اے او کے چیف اکنامسٹ میکسیمو توریرو کے مطابق اگر توانائی اور کھاد کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو زرعی پیداوار مہنگی ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور 2030 تک بھی تقریباً 52 کروڑ افراد بھوک کا شکار رہ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان تخمینوں میں 2026 اور 2027 کے ممکنہ شدید ایل نینو موسمی اثرات کو شامل نہیں کیا گیا، جبکہ ایسے موسمی واقعات زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کرکے غذائی بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

غذائیت کے حوالے سے بھی صورتحال مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں۔ رپورٹ کے مطابق بچوں میں قد کی نشوونما میں رکاوٹ، شدید کمزوری، کم وزن پیدائش اور ماں کا دودھ پلانے جیسے شعبوں میں کچھ بہتری ضرور دیکھی گئی ہے، لیکن 15 سے 49 برس کی خواتین میں خون کی کمی (اینیمیا) کا مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں موٹاپا بھی ایک تیزی سے ابھرتا ہوا صحت کا بحران بن چکا ہے۔ بالغ افراد میں موٹاپے کی شرح 2012 میں 12.1 فیصد تھی جو 2024 میں بڑھ کر 16.2 فیصد تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق صرف 30.8 فیصد بچوں کو، جن کی عمر 6 سے 23 ماہ کے درمیان ہے، متنوع اور متوازن غذا میسر آ رہی ہے، جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بچے اب بھی نشوونما کے مسائل کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی قلت اور ناقص غذائیت مستقبل میں انسانی صحت، تعلیمی استعداد اور معاشی ترقی پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

صحت بخش خوراک تک رسائی کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر بہت بڑا چیلنج موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021 میں تقریباً دو ارب 97 کروڑ افراد ایسی خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے جو جسمانی ضروریات پوری کر سکے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کم ہو کر دو ارب 69 کروڑ رہ گئی، تاہم اب بھی دنیا کی ایک بڑی آبادی متوازن غذا خریدنے سے قاصر ہے۔

رپورٹ میں اس غلط فہمی کو بھی دور کیا گیا ہے کہ صرف زرعی پیداوار بڑھانے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق صارفین جو قیمت ادا کرتے ہیں، اس کا تقریباً 70 سے 75 فیصد حصہ فصل کے کھیت سے نکلنے کے بعد کے مراحل، مثلاً پراسیسنگ، پیکجنگ، ذخیرہ، کولڈ چین، ٹرانسپورٹ، تھوک تجارت اور سپلائی چین کے اخراجات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس لیے صرف پیداوار میں اضافہ کافی نہیں بلکہ پورے غذائی نظام کو زیادہ مؤثر، کم لاگت اور پائیدار بنانا ضروری ہے۔

بھارت کا منظرنامہ

بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ممالک میں شامل ہے، نے گزشتہ برسوں میں غذائی تحفظ کے شعبے میں متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ قومی غذائی تحفظ ایکٹ (NFSA)، پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا اور سرکاری راشن نظام کے ذریعے کروڑوں افراد کو رعایتی یا مفت اناج فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے مڈ ڈے میل اسکیم، آنگن واڑی مراکز اور حاملہ خواتین کے لیے غذائی معاونت جیسے پروگرام غذائیت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو اب بھی بچوں میں غذائی قلت، خواتین میں خون کی کمی، موسمیاتی تبدیلی کے زرعی اثرات، غذائی تنوع کی کمی اور زرعی سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ زرعی بنیادی ڈھانچے، کولڈ اسٹوریج، جدید آبپاشی، زرعی تحقیق اور غذائی اجناس کی بہتر ترسیل پر سرمایہ کاری مستقبل میں غذائی تحفظ کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر اقوام متحدہ کے اداروں نے سفارش کی ہے کہ ہر ملک اپنی مقامی ضروریات کے مطابق زرعی تحقیق، جدید آبپاشی، بنیادی ڈھانچے، کولڈ اسٹوریج، کسانوں کی معاونت، تجارتی سہولتوں، سپلائی چین کی بہتری اور ضابطہ جاتی اصلاحات پر توجہ دے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی برادری نے فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے تو 2030 تک “بھوک سے پاک دنیا” کا خواب حقیقت بننے کے بجائے مزید دور ہوتا چلا جائے گا۔