Last Updated on February 3, 2026 12:49 am by BIZNAMA NEWS

FILE PHOTO

نئی دہلی

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت میڈ اِن انڈیا مصنوعات پر امریکی ٹیرف کم کرکے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اسے ہند–امریکہ تجارتی تعلقات میں ایک اہم اور مثبت موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے بات چیت کے بعد سوشل میڈیا پر کہا کہ صدر ٹرمپ سے گفتگو “انتہائی خوشگوار” رہی اور انہوں نے اس فیصلے پر ہندوستان کے 1.4 ارب عوام کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا کی دو بڑی معیشتیں اور سب سے بڑی جمہوریتیں مل کر کام کرتی ہیں تو اس کے فوائد نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی معیشت کو بھی حاصل ہوتے ہیں۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تقریباً پانچ ماہ قبل واشنگٹن نے متعدد ہندوستانی برآمدات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیے تھے۔ ان میں روس سے تیل کی خریداری کے سبب ہندوستان پر لگایا گیا 25 فیصد کا تعزیری محصول بھی شامل تھا۔ نئے معاہدے کے تحت ان سخت ٹیرف میں نمایاں نرمی کی گئی ہے، جس سے امریکی منڈی میں ہندوستانی برآمد کنندگان کی مسابقتی حیثیت مضبوط ہونے کی امید ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق، نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری روکنے اور امریکہ سے کہیں زیادہ مقدار میں توانائی خریدنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان آئندہ امریکہ کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر وینزویلا سے بھی تیل اور توانائی کے وسائل خریدے گا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ اقدامات روس–یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہندوستان امریکی مصنوعات کے لیے اپنے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو مرحلہ وار ختم کرکے صفر تک لانے کی سمت میں آگے بڑھے گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی نے ’بائے امریکن‘ پالیسی کے تحت امریکہ سے بڑے پیمانے پر خریداری کا عزم ظاہر کیا ہے، جس میں توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت، کوئلہ اور دیگر شعبوں کی 500 ارب ڈالر سے زائد مصنوعات شامل بتائی گئی ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کی قیادت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ان کا کردار اہم ہے اور ہندوستان ان کی امن سے متعلق کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے برسوں میں ہند–امریکہ شراکت داری نئی اور بے مثال بلندیوں کو چھوئے گی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف ٹیرف تنازعات اور تجارتی دباؤ کو کم کرے گا بلکہ ہندوستان میں مینوفیکچرنگ، توانائی تحفظ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی نئی سمت دے گا۔ مجموعی طور پر، یہ تجارتی سمجھوتہ ہند–امریکہ تعلقات کو معاشی اور اسٹریٹجک دونوں محاذوں پر مزید مضبوط بنانے والا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *