Last Updated on April 17, 2026 11:35 pm by BIZNAMA NEWS
AMN
Lebanon میں جنگ بندی کی اطلاعات کے بعد Iran نے اہم عالمی گزرگاہ Strait of Hormuz کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں حالیہ کشیدگی میں ممکنہ کمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں United States اور Israel بھی شامل ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی، تاہم اس کے لیے ایرانی حکام کی مقررہ شرائط پر عمل کرنا لازم ہوگا۔
انہوں نے بیان دیا، “لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جنگ بندی کی مدت تک بحال کی جا رہی ہے، اور یہ ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے مقرر کردہ راستوں کے مطابق ہوگی۔”
ایرانی سرکاری ذرائع، جیسے Fars News Agency اور Tasnim News Agency، کے مطابق اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی بحری حکام کے ساتھ ہم آہنگی کرنا ہوگی اور طے شدہ راستوں کی پابندی کرنا ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق یہ سہولت صرف تجارتی جہازوں تک محدود ہوگی۔ فوجی جہازوں کو اس کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ ایسے جہاز یا سامان جن کا تعلق ایران کے نزدیک مخالف ممالک سے ہو، ان پر اضافی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث یہاں نقل و حمل متاثر ہوئی تھی۔ ایران نے اپنے اقدامات کو اس آبی راستے کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
اگرچہ اس فیصلے سے عالمی شپنگ اور توانائی کی منڈیوں کو وقتی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق خطے کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور طویل مدتی استحکام کا انحصار وسیع تر جغرافیائی و سیاسی حالات پر ہوگا۔

