Last Updated on April 2, 2026 10:18 pm by BIZNAMA NEWS

عندلیب اختر / نئی دہلی

مغربی ایشیا میں جاری بحران کے پیش نظر حکومتِ ہند نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ خطے میں موجود بھارتی شہریوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود اس کی اولین ترجیح ہے۔

وزارتِ خارجہ میں خلیج امور کے ایڈیشنل سیکریٹری اسیم مہاجن نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت خلیج اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود بھارتی سفارتی مشنز مقامی حکام کے ساتھ مل کر ویزا، قونصلر خدمات اور ٹرانزٹ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں اور بھارتی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر بھارتی طلبہ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کے تعلیمی شیڈول متاثر نہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں، تعلیمی بورڈز اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ساتھ رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ جے ای ای اور نیٹ جیسے امتحانات سے متعلق طلبہ کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اقتصادی محاذ پر راحت فراہم کرنے کے لیے حکومت نے بعض اہم پیٹروکیمیکل مصنوعات پر 30 جون تک مکمل کسٹم ڈیوٹی چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ حالیہ مغربی ایشیا کی صورتحال پر بین الوزارتی بریفنگ کے دوران سنٹرل بورڈ آف ان ڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز کے رکن سنجے منگل نے کہا کہ یہ اقدام ایک عارضی اور ہدفی ریلیف کے طور پر اٹھایا گیا ہے تاکہ گھریلو صنعتوں کے لیے ضروری پیٹروکیمیکل خام مال کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے سے پلاسٹک، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل سمیت کئی ایسے شعبوں کو فائدہ پہنچے گا جو پیٹروکیمیکل مصنوعات اور درمیانی خام مال پر انحصار کرتے ہیں۔ اس سے ان مصنوعات کے صارفین کو بھی بالآخر راحت ملنے کی توقع ہے۔

وزارتِ تجارت و صنعت کے ایڈیشنل سیکریٹری لو اگروال نے برآمد کنندگان کے لیے بھی کئی رعایتی اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جن برآمد کنندگان کے پاس ایڈوانس آتھرائزیشن یا ایکسپورٹ پروموشن کیپیٹل گڈز لائسنس ہیں، انہیں اپنی برآمدی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے 31 اگست تک مزید تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران کسی لائسنس کو منسوخ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آر او ڈی ٹی ای پی (RoDTEP) اسکیم کے تحت برآمد کنندگان کو دی جانے والی رعایت، جسے فروری میں کم کر کے 50 فیصد کر دیا گیا تھا، اب 23 مارچ سے دوبارہ 100 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے بھارتی برآمد کنندگان کی عالمی مسابقت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

زرعی اور پراسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (APEDA) کے تحت باسمتی چاول کی برآمد کے لیے رجسٹریشن کم الاٹمنٹ سرٹیفکیٹ کی مدت میں 45 دن کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کے لیے برآمد کنندگان سے کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔

لو اگروال نے بتایا کہ حکومت نے گزشتہ ماہ ریزیلینس اینڈ لاجسٹکس انٹروینشن فار ایکسپورٹ فسیلیٹیشن (RELIEF) پروگرام بھی شروع کیا ہے، جس کا مقصد تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنا، لاگت کے بوجھ کو کم کرنا اور سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے۔

ادھر وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے کہا کہ ملک میں خام تیل کی دستیابی معمول کے مطابق ہے اور تمام ریفائنریاں اپنی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی ہے جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بھی کچھ بوجھ خود برداشت کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئندہ 60 دنوں کے لیے خام تیل کی مناسب فراہمی کا انتظام کر لیا ہے اور ملک کے کسی بھی ریٹیل آؤٹ لیٹ پر ایندھن کی قلت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے قدرتی گیس کی فراہمی بھی مکمل طور پر یقینی بنائی گئی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ اب تک تقریباً 1200 بھارتی شہریوں، جن میں 845 طلبہ شامل ہیں، کو ایران سے نکالنے میں مدد دی گئی ہے۔ انہیں زمینی راستوں کے ذریعے آرمینیا اور آذربائیجان منتقل کیا گیا ہے جبکہ کئی دیگر شہریوں کو ایران کے اندر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی شہریوں کے محفوظ انخلا میں تعاون پر حکومتِ ہند نے آرمینیا اور آذربائیجان کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *