Last Updated on July 8, 2026 11:16 pm by BIZNAMA NEWS
بیج، آبپاشی، لائیو اسٹاک، زرعی تحقیق اور تجارت کے شعبوں میں مشترکہ روڈ میپ تیار کیا جائے گا
عندلیب اختر
نئی دہلی: بھارت اور افغانستان نے غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، آبپاشی، معیاری بیجوں، لائیو اسٹاک اور زرعی تجارت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ مرکزی وزیر زراعت و کسان فلاح و دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان اور افغانستان کے وزیر زراعت، آبپاشی و لائیو اسٹاک مولوی عطا اللہ عمری کے درمیان نئی دہلی میں ہونے والی دوطرفہ ملاقات میں کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں ملکوں کے موجودہ زرعی تعاون کا جائزہ لیا گیا اور زرعی تحقیق، تعلیم، صلاحیت سازی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، لائیو اسٹاک کی ترقی اور نجی شعبے کی شراکت داری سمیت نئے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزارتِ زراعت اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔
افغان وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان صدیوں پر محیط تہذیبی اور دوستانہ تعلقات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سائنسی مہارت، تکنیکی اختراعات اور ادارہ جاتی تجربہ افغانستان کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہے تاکہ وہاں غذائی تحفظ، زرعی پیداوار اور کسانوں کی خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔
گفتگو کے دوران غذائی تحفظ، بیجوں کے نظام اور فصلوں کی پیداواریت اہم موضوعات رہے۔ افغان وفد نے گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید بیج ٹیکنالوجی اور تحقیقی تعاون میں بھارت کی مدد طلب کی۔ اس پر بھارتی وزیر نے معیاری گندم، مکئی اور آلو کے بیج، موسمیاتی تبدیلی سے مزاحم اقسام اور آئی سی اے آر کے سائنسی تعاون کی پیشکش کی۔
آبپاشی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ افغان وفد نے پانی کی قلت اور موسمیاتی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے آبپاشی، بارش کے پانی کے ذخیرے اور واٹر شیڈ مینجمنٹ میں تعاون کی خواہش ظاہر کی۔ بھارت نے مائیکرو آبپاشی، بارش کے پانی کے ذخیرے، فارم تالابوں، چیک ڈیمز اور مؤثر آبی استعمال کی ٹیکنالوجی میں اپنا تجربہ شیئر کرنے کی پیشکش کی۔
دونوں ممالک نے زرعی تحقیق، تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے تحت مشترکہ تحقیق، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے، لیبارٹری معاونت اور سائنس دانوں، ویٹرنری ماہرین اور زرعی عملے کی تربیت کے پروگرام شروع کیے جا سکتے ہیں۔ باغبانی، ڈیری، لائیو اسٹاک، پولٹری، ماہی پروری، ڈیجیٹل زراعت، مٹی کی صحت اور بعد از برداشت انتظامات بھی زیرِ بحث آئے۔
زرعی تجارت کے حوالے سے دونوں فریقوں نے زرعی اجناس، معیاری بیجوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تجارت بڑھانے اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینے پر زور دیا۔ افغان وفد نے اپنی زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور زرعی مصنوعات کی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں بھارت کے تعاون کی درخواست بھی کی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے زرعی اور لائیو اسٹاک تعاون کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا، جو طویل مدتی تعاون کے لیے باقاعدہ روڈ میپ تیار کرے گا اور نئی مشترکہ ترجیحات کی نشاندہی کرے گا۔
شیوراج سنگھ چوہان نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے اور پائیدار زراعت، غذائی تحفظ اور کسانوں کی خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

