Last Updated on June 7, 2026 2:23 pm by BIZNAMA NEWS


جاوید اختر
بھارت دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل ادائیگی نظاموں میں شامل ہو چکا ہے، جہاں روزانہ کروڑوں لوگ یو پی آئی (UPI)، کیو آر کوڈ، موبائل والیٹس اور فوری بینک ٹرانسفر کے ذریعے لین دین کرتے ہیں۔ لیکن ڈیجیٹل سہولتوں کے ساتھ آن لائن فراڈ کے واقعات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023–24 میں یو پی آئی فراڈ کے 13.42 لاکھ معاملات رپورٹ ہوئے جن میں تقریباً 1087 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ 2024–25 میں 12.64 لاکھ کیسز میں 981 کروڑ روپے سے زیادہ کا مالی نقصان درج کیا گیا۔ سائبر جرائم کے مجموعی واقعات بھی 2022 کے 10.29

لاکھ سے بڑھ کر 2025 میں تقریباً 28 لاکھ تک پہنچ گئے۔
1۔ جعلی یو پی آئی کلیکٹ ریکویسٹ
فراڈی افراد ریفنڈ، کیش بیک یا رقم وصولی کے نام پر کلیکٹ ریکویسٹ بھیجتے ہیں۔ صارف جیسے ہی یو پی آئی پن داخل کرتا ہے، رقم اس کے اکاؤنٹ سے نکل جاتی ہے۔ یاد رکھیں: UPI PIN صرف رقم بھیجنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، وصول کرنے کے لیے نہیں۔
2۔ کیو آر کوڈ کے ذریعے فراڈ
فراڈی افراد دعویٰ کرتے ہیں کہ ریفنڈ یا کیش بیک حاصل کرنے کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کریں، مگر حقیقت میں اسکین کرتے ہی ادائیگی شروع ہو جاتی ہے۔
۳۔جعلی ٹریفک چالان اسکیم
گاڑی مالکان کو ایس ایم ایس یا واٹس ایپ پر جعلی چالان بھیجا جاتا ہے اور ادائیگی کے لیے لنک دیا جاتا ہے۔ کئی بار یہ لنک نقصان دہ ایپ انسٹال کرا دیتا ہے جو فون اور بینکنگ معلومات تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔
4۔ جعلی KYC اور اکاؤنٹ بلاک پیغامات
“آپ کا KYC ختم ہو گیا ہے” یا “آپ کا بینک اکاؤنٹ بند ہو جائے گا” جیسے پیغامات کے ذریعے صارفین کو جعلی ویب سائٹس پر لے جا کر OTP اور پاس ورڈ چرائے جاتے ہیں۔
5۔ ریموٹ ایکسس ایپس کا جال
فراڈی افراد AnyDesk یا TeamViewer جیسی ایپس انسٹال کروا کر فون اسکرین تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں اور بینکنگ معلومات چرا لیتے ہیں۔
6۔ جعلی ادائیگی اسکرین شاٹ
دکانداروں اور کاروباری افراد کو جعلی UPI ادائیگی کا اسکرین شاٹ دکھا کر سامان یا خدمات حاصل کر لی جاتی ہیں۔
7۔ “ڈیجیٹل گرفتاری” فراڈ
یہ بھارت میں تیزی سے بڑھنے والا فراڈ ہے۔ مجرم خود کو پولیس، سرکاری افسر یا تفتیشی ادارے کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں اور قانونی کارروائی یا گرفتاری کی دھمکی دے کر رقم وصول کرتے ہیں۔ حکام واضح کر چکے ہیں کہ کوئی سرکاری ادارہ ویڈیو کال پر رقم طلب نہیں کرتا۔
8۔ جعلی کسٹمر کیئر نمبر
انٹرنیٹ پر جعلی ہیلپ لائن نمبرز ڈال دیے جاتے ہیں۔ رابطہ کرنے پر صارف سے OTP، کارڈ کی تفصیلات یا ایپ انسٹال کروا لی جاتی ہے۔
9۔ سم سوئپ فراڈ
فراڈی افراد متاثرہ شخص کے نمبر کی نقل سم حاصل کر لیتے ہیں، جس کے بعد OTP ان کے پاس پہنچنے لگتے ہیں اور وہ بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔
10۔ ریفنڈ یا ریورسل فراڈ
جعلی پیغام بھیج کر بتایا جاتا ہے کہ غلطی سے رقم آپ کے اکاؤنٹ میں آ گئی ہے اور واپس بھیجنے کو کہا جاتا ہے۔ کئی معاملات میں صارفین لاکھوں روپے گنوا چکے ہیں۔
محفوظ رہنے کے چند اصول

  • کسی بھی صورت OTP یا UPI PIN شیئر نہ کریں
  • صرف سرکاری ویب سائٹس اور ایپس استعمال کریں
  • مشکوک لنکس اور APK فائلوں سے بچیں
  • ادائیگی وصول ہونے کی تصدیق بینک یا ایپ میں خود کریں
  • فوری شکایت کے لیے سائبر ہیلپ لائن 1930 سے رابطہ کریں
    ڈیجیٹل سہولتیں زندگی آسان بناتی ہیں، لیکن محتاط رہنا اب پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔