Last Updated on July 4, 2026 7:14 pm by BIZNAMA NEWS

یہاں رواں ہفتے (جولائی 2026) کی 5 اہم عالمی اور مقامی کاروباری و معاشی خبروں کا خلاصہ پیش ہے:

1۔ ورلڈ بینک کی عالمی معاشی سست روی اور قرضوں کے بحران پر سخت تنبیہ

ورلڈ بینک نے اپنی تازہ ترین “عالمی معاشی امکانات” (Global Economic Prospects) رپورٹ جاری کی ہے، جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی و سیاسی تنازعات کی وجہ سے عالمی معیشت پر گہرے بادل منڈلا رہے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے کے باعث اس سال عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو کر محض 2.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان معاشی خلیج تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور 2019 کے بعد سے تقریباً آدھی ترقی پذیر معیشتیں امیر ملکوں کے برابر آنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ اس جمود کی ایک بڑی وجہ عوامی قرضوں میں بے پناہ اضافہ ہے۔ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کو قرضوں پر بھاری سود ادا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی کریڈٹ ریٹنگ گر رہی ہے اور سرمایہ کاروں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ورلڈ بینک نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنائیں اور قرضوں میں شفافیت لائیں۔

2۔ ورلڈ گولڈ کونسل کی پیشگوئی: سونا جلد 4,500 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتا ہے

ورلڈ گولڈ کونسل (WGC) نے اپنی وسط سالہ آؤٹ لک رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ سونا اس وقت عارضی طور پر 4,100 ڈالر فی اونس کے آس پاس مستحکم ہے، لیکن مستقبل میں اس کی قیمتوں میں زبردست تیزی آنے کے واضح امکانات ہیں۔ رپورٹ میں تین بڑی وجوہات بتائی گئی ہیں جو سونے کو جلد ہی 4,500 ڈالر کی نئی تاریخی سطح پر لے جا سکتی ہیں: مستقل عالمی مہنگائی، جیو پولیٹیکل عدم استحکام، اور مرکزی بینکوں کی طرف سے سونے کی جارحانہ خریداری۔

اس وقت عالمی سطح پر اوسط مہنگائی 4.3 فیصد کی بلند سطح پر برقرار ہے۔ تاریخی طور پر، جب بھی مہنگائی طویل ہوتی ہے، سونا دیگر تمام اثاثوں کے مقابلے میں سب سے بہترین منافع دیتا ہے۔ مزید برآں، دنیا بھر کے مرکزی بینک 2022 سے اب تک سالانہ اوسطاً 1,000 ٹن سونا خرید رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں سونے کی سپلائی کم اور مانگ بڑھ گئی ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے سود کی شرح میں معمولی کمی بھی سونے کی قیمتوں میں بڑا دھماکہ کر سکتی ہے۔

3۔ فن ٹیک (Fintech) میں نیا انقلاب: “ایجینٹک پیمنٹس” کا تجارتی آغاز

عالمی مالیاتی ٹیکنالوجی (Fintech) کے شعبے نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے جب پیرس کی کمپنی ورلڈ لائن (Worldline)، ماسٹر کارڈ، اور فرانسیسی بینک کریڈٹ ایگریکول نے مل کر ملک کی پہلی لائیو “اے آئی ایجنٹ پیمنٹ” (AI Agent Payment) کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ تجارتی لین دین مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بغیر کسی انسانی مداخلت کے انجام دیا گیا۔

اس کامیاب لانچ کے بعد اب مالیاتی دنیا روایتی آٹومیٹڈ ادائیگیوں سے نکل کر “آزاد تجارتی نظام” (Autonomous Commerce) میں داخل ہو گئی ہے۔ اس نئے ماڈل کے تحت، کمپنیوں یا صارفین کی طرف سے کام کرنے والے خودمختار اے آئی ایجنٹس خود ہی ڈیلز طے کر سکتے ہیں، رقم کی تصدیق کر سکتے ہیں اور بینکنگ قوانین و سیکیورٹی معیارات کے اندر رہتے ہوئے ادائیگی کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آنے والے وقت میں انسانی مینوئل پے منٹس کی جگہ لے لے گی۔

4۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کا بینکوں کی من مانی اور “غلط فروخت” کے خلاف سخت قانون

ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے بینکنگ انڈسٹری میں صارفین کو دھوکے سے مالیاتی مصنوعات بیچنے (Mis-selling) کے خلاف ایک انتہائی سخت ریگولیٹری فریم ورک نافذ کر دیا ہے۔ ماضی میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بینک اپنے ملازمین کو ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے صارفین پر دباؤ ڈال کر غیر ضروری انشورنس پالیسیاں، میوچل فنڈز یا کریڈٹ کارڈز بیچ دیتے تھے۔

نئے قوانین کے تحت اب تمام کمرشل بینکوں پر سخت قانونی ذمہ داری عائد ہوگی۔ اگر کسی صارف کو جان بوجھ کر یا گمراہ کر کے کوئی غلط پروڈکٹ بیچی گئی، تو وہ فوری طور پر مکمل رقم کی واپسی (Full Refund) کا حقدار ہوگا۔ مزید برآں، بینکوں کو اس دھوکہ دہی کی وجہ سے گاہک کو ہونے والے کسی بھی اضافی مالی نقصان کا معاوضہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ مرکزی بینک کا یہ قدم کسٹمر پروٹیکشن کو مضبوط کرے گا اور بینکوں کو اپنے اندرونی کلچر کو سدھارنے پر مجبور کرے گا۔

5۔ اڈانی گروپ اور IHC کے درمیان 1.08 لاکھ کروڑ روپے کا تاریخی ایلومینیم معاہدہ

بھارت کے صنعتی منظر نامے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اڈانی انٹرپرائزز نے انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (IHC) گروپ کی ذیلی کمپنی ‘IRH’ کے ساتھ ایک تاریخی مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس 50:50 کے مشترکہ منصوبے (Joint Venture) کے تحت ریاست اوڈیشہ میں ایک بہت بڑا مربوط ایلومینیم پروجیکٹ تیار کیا جائے گا، جس کی مالیت تقریباً 1.08 لاکھ کروڑ روپے (11.5 ارب ڈالر) ہے۔

یہ منصوبہ بکسائٹ کی کان کنی، ریفائننگ سے لے کر ایلومینیم سمیلٹنگ تک کی پوری سپلائی چین کو یکجا کرے گا، جس سے بھارت کی مینوفیکچرنگ صلاحیت میں زبردست اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف، پبلک سیکٹر کی بڑی کمپنی ‘کول انڈیا’ نے بھی گھریلو صنعتی مانگ میں 7.5 فیصد سالانہ اضافے کی اطلاع دی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی معاشی اتار چڑھاؤ کے باوجود، بھارت میں انفراسٹرکچر اور میٹل پروسیسنگ کے شعبوں میں نجی اور سرکاری سرمایہ کاری عروج پر ہے۔