Last Updated on July 4, 2026 7:17 pm by BIZNAMA NEWS

از سنبل فاطمہ

دنیا بھر میں ہر سال 11 لاکھ 90 ہزار لوگ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے سڑکوں پر زندگی کو تحفظ دینے کے لیے نئی قانونی رہنمائی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی بدولت نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانے اور ان اموات کو روکنے میں مدد ملے گی۔

‘ڈبلیو ایچ او’ نے اس مقصد کے لیے ایک عالمی تکنیکی ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے جو درج ذیل معاملات میں رہنمائی دے گا:

  • ڈرائیونگ کے دوران توجہ بٹانے والے عوامل کی روک تھام۔ ان میں میں موبائل فون کا استعمال اور گاڑیوں میں نئی ٹیکنالوجی سے متعلق مسائل بھی شامل ہیں۔
  • تیزرفتاری کے باعث ہونے والے حادثات پر قابو پانا اور محفوظ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری۔ 
  • موٹرسائیکلوں سمیت دو اور تین پہیوں والی موٹر گاڑیوں کا تحفظ۔ اس کے لیے ایسا جامع قانونی طریقہ کار تیار کیا جائے گا جس میں بنیادی ڈھانچہ، گاڑیوں کے معیارات، سڑک استعمال کرنے والوں کے رویے، حادثوں کے بعد امدادی اقدامات اور حکومتی نظم و نسق جیسے تمام اہم پہلو شامل ہیں۔

سڑکوں پر حادثات 5 سے 29 سال تک عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی موت کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ ڈرائیونگ کے دوران توجہ بٹنا، رفتار پر موثر کنٹرول کا فقدان، غیر محفوظ سڑکیں و بنیادی ڈھانچہ اور موٹرسائیکلوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ایسے نمایاں عوامل ہیں جن کے باعث جان لیوا حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سائنسی شواہد پر مبنی رہنمائی

‘ڈبلیو ایچ او’ کے تمام چھ عالمی خطوں سے تعلق رکھنے والے 17 ارکان پر مشتمل اس ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس 22 جون 2026 کو منعقد ہوا۔ ان میں 11 ارکان کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ماہرین محفوظ سڑکوں کے نظام، نقل و حمل کی پالیسی، سڑکوں پر تحفظ سے متعلق قوانین، نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، صحت عامہ اور محفوظ طرز سفر کو فروغ دینے جیسے شعبوں میں وسیع تجربے کے حامل ہیں۔ 

اجلاس میں جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ نے شواہد کے جائزے کے طریقۂ کار پر بھی بریفنگ دی۔ شرکا نے زور دیا کہ اس جائزے کی بنیاد محفوظ نظام کے اصولوں پر ہونی چاہیے، قانون سازی کے نتیجے میں لوگوں کے رویوں میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی مدنظر رکھا جائے، اور اس فرق کا جائزہ بھی لیا جائے جو قوانین اور ان کے عملی نفاذ کے درمیان موجود ہے۔

‘ڈبلیو ایچ او’ میں تشدد اور زخموں سے بچاؤ کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر ہان ٹران نے کہا ہے کہ  موجودہ قوانین بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہیں لیکن خود کو سڑکوں پر تیزی سے بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ ورکنگ گروپ ایسی رہنمائی تیار کرے گا جو مضبوط سائنسی شواہد پر مبنی، نقل و حمل کے موجودہ نظام کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ اور ان طریقوں پر استوار ہو گی جن کے ذریعے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

سفر کا محفوظ تر نظام

‘ڈبلیو ایچ او’ کی رہنمائی میں الگ الگ قانونی تقاضوں پر زور دینے کے بجائے محفوظ نظام کے تصور کو بنیاد بنایا جائے گا۔ مثال کے طور پر، رفتار پر قابو پانے کے لیے صرف رفتار کی حد مقرر کرنا کافی نہیں ہو گا بلکہ سڑکوں کی بناوٹ اور بنیادی ڈھانچے کو بھی محفوظ بنایا جائے گا۔ اسی طرح، موٹرسائیکل سواروں کی حفاظت کو صرف ہیلمٹ کے استعمال تک محدود رکھنے کے بجائے پورے نظام کو زیادہ محفوظ بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

اس معاملے میں حتمی رہنمائی کی تیاری کے لیے درج زیل شعبوں میں کام کیا جائے گا۔

  • ورکنگ گروپ کی جانب سے تکنیکی مشاورت۔
  • جارج انسٹیٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کی جانب سے 12 ماہ پر محیط سائنسی شواہد کا جامع جائزہ۔
  • ‘ڈبلیو ایچ او’ کے رکن ممالک کے ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت، جس میں کم از کم چار علاقائی بالمشافہ اجلاس بھی شامل ہوں گے۔

اس رہنمائی کے مسودے کی تیاری 2027 کے وسط میں شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ اسے 2027 کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔