Last Updated on June 7, 2026 1:59 pm by BIZNAMA NEWS


AMN

بھارتی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے قومی آمدنی کے عبوری تخمینوں کے مطابق مالی سال 2025-26 میں بھارتی معیشت کا حجم بڑھ کر تقریباً 346.36 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس سے قبل جاری دوسرے پیشگی تخمینے، جس میں معیشت کا حجم 345.47 لاکھ کروڑ روپے بتایا گیا تھا، سے قدرے زیادہ ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ اعداد و شمار ملک میں مضبوط معاشی سرگرمیوں اور اقتصادی استحکام کی عکاسی کرتے ہیں۔ مالی سال 2021 سے 2026 کے درمیان موجودہ قیمتوں پر مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں سالانہ 10.8 فیصد کی مرکب شرح نمو (CAGR) ریکارڈ کی گئی، جو دنیا کی بڑی معیشتوں میں نمایاں سمجھی جا رہی ہے۔تاہم گھریلو سطح پر اس مضبوط معاشی کارکردگی کے باوجود بھارت کی عالمی اقتصادی درجہ بندی میں متوقع بہتری نہیں آ سکی۔ ڈالر کی بنیاد پر حساب لگائے گئے اعداد و شمار کے مطابق بھارت مالی سال 2026 میں دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن گیا ہے۔مالی سال 2025 میں بھارت برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر پانچویں بڑی معیشت کے طور پر ابھرا تھا، لیکن تازہ تخمینوں کے مطابق وہ ایک بار پھر برطانیہ اور جاپان دونوں سے پیچھے چلا گیا ہے۔


معاشی ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ روپے اور ڈالر میں ماپی جانے والی اقتصادی نمو کے درمیان فرق ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارتی روپے کی قدر میں مسلسل کمی آئی ہے، جس کے باعث مقامی کرنسی میں ہونے والی معاشی ترقی کا اثر عالمی سطح پر ڈالر کی بنیاد پر مکمل طور پر ظاہر نہیں ہو سکا۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں بھارت کی معیشت کا حجم تقریباً 3.92 کھرب امریکی ڈالر رہا، جبکہ برطانیہ کی معیشت کا حجم 4 کھرب ڈالر اور جاپان کی معیشت 4.43 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی وجہ سے بھارت عالمی درجہ بندی میں ان دونوں ممالک سے پیچھے رہ گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی معیشت مسلسل ترقی کر رہی ہے اور طویل مدت میں اس کے امکانات روشن ہیں، لیکن جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بننے کا ہدف فی الحال مؤخر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق عالمی درجہ بندی میں بہتری کے لیے صرف بلند شرح نمو کافی نہیں، بلکہ روپے کے استحکام، برآمدات میں اضافے اور عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی بھی ضرورت ہوگی۔اگرچہ بھارت کی معیشت اندرونی طور پر تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے، لیکن عالمی اقتصادی درجہ بندی میں نمایاں پیش رفت کے لیے کرنسی کے استحکام اور بیرونی معاشی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
biznama.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔