Last Updated on June 9, 2026 3:08 pm by BIZNAMA NEWS

مصنوعی ذہانت نہ صرف زمین کو گرم کرنے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اس ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی اثرات اس قدر تیزی سے بڑھ رہے ہیں کہ ان سے کرہ ارض کے قدرتی وسائل پر شدید دباؤ آ سکتا ہے۔

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو چلانے والے معلوماتی مراکز (ڈیٹا سنٹر) 2030 تک سالانہ 945 ٹیرا واٹ گھنٹے بجلی استعمال کریں گے۔ یہ مقدار پاکستان، بنگلہ دیش اور نائجیریا میں بجلی کی مجموعی سالانہ کھپت سے تین گنا زیادہ ہے جبکہ ان تینوں ممالک کی مجموعی آبادی 65 کروڑ ہے۔

تاہم یہ اس صرف مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ کاربن کے اخراج سے ہٹ کر، معلوماتی مراکز میں استعمال ہونے والی بجلی کے ساتھ پانی کے مسائل بھی جڑے ہیں۔ ان جگہوں کو ٹھنڈا رکھنے اور انہیں بجلی مہیا کرنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔  اسی طرح، توانائی کی پیداوار اور اس کی رسد زمین کے استعمال میں اضافے کا باعث بنتی ہیں جسے اس ٹیکنالوجی کے زمینی اثرات کہا جاتا ہے۔ 

اقوام متحدہ کی یونیورسٹی (یو این یو) کی نئی تحقیق کے مطابق، رواں دہائی کے اختتام تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پانی کا استعمال اس قدر بڑھ سکتا ہے کہ وہ 1.3 ارب افراد کی سالانہ بنیادی گھریلو ضروریات کے برابر ہو جائے گا۔ اسی طرح، اس کا زمینی اثر 14,500 مربع کلومیٹر سے تجاوز کر سکتا ہے جو جکارتہ کے شہری علاقے سے دو گنا زیادہ ہے۔

ایک جدید ڈیٹا سینٹر کے اندر ایک منظر، جس میں سیاہ سرور ریکس کی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں جن کے اوپر نیلی نیٹ ورک کیبلز چھت سے لٹکی ہوئی ہیں اور جو ایک ٹائلڈ فرش کے اوپر واقع ہیں۔
© Unsplash/Taylor Vick ڈیٹا سینٹروں پر نصب اس مشینری کو چلانے کے لیے بجلی کی بھاری اور مسلسل رسد درکار ہوتی ہے۔

ماحولیاتی اثرات کی جانچ میں خامی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی اثرات کو جانچنے کے موجودہ طریقوں میں ایک بنیادی خامی ہے۔ عموماً اس سلسلے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے بڑے نمونوں (ماڈلز) کی تیاری سے پیدا ہونے والے اخراج پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ اس سوچ کے باعث دیگر ماحولیاتی نقصانات نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا روزمرہ استعمال توانائی کی مجموعی طلب کا تقریباً 80 سے 90 فیصد بنتا ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ایک مقبول سروس روزانہ معلومات کی تقریباً 2.5 ارب درخواستیں وصول کرتی ہے جس کے لیے سالانہ سینکڑوں گیگا واٹ گھنٹے بجلی درکار ہوتی ہے۔

بعض اوقات جو طریقہ کار کسی ایک پہلو سے ماحول دوست دکھائی دیتے ہیں، وہ دوسرے پہلوؤں سے مسائل کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، توانائی کے بعض قابل تجدید ذرائع کم مقدار میں کاربن خارج کرتے ہیں لیکن ان کے نتیجے میں پانی اور زمین کا استعمال نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔

توانائی کا بے تحاشہ استعمال

مختلف کاموں کے لیے توانائی کی ضرورت بھی بہت مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک تصویر تیار کرنے میں حروف پر مشتمل کسی درجہ بندی کی تیاری کے مقابلے میں ہزار گنا سے زیادہ توانائی صرف ہو سکتی ہے جبکہ ویڈیو بنانے کے لیے اس سے بھی کہیں زیادہ توانائی کی ضرورت پڑتی ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ محض کارکردگی میں بہتری اس بڑھتی ہوئی طلب پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ وہ رجحان ہے جسے ری باؤنڈ ایفیکٹ کہا جاتا ہے، یعنی جب کسی ٹیکنالوجی کی لاگت کم ہو اور اس کی کارکردگی بہتر ہو جائے تو اس کا استعمال بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں مجموعی وسائل کی کھپت بھی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جاتی ہے۔

غیرمساوی ماحولیاتی نقصان

مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے ماحولیاتی اثرات دنیا بھر میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوتے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سے پوری دنیا مستفید ہوتی ہے لیکن اس کے نقصانات اکثر مخصوص علاقوں کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

کچھ ممالک میں مصنوعی ذہانت کے معلوماتی مراکز پہلے ہی بجلی کی مجموعی کھپت کا بڑا حصہ صرف کر رہے ہیں جس سے توانائی کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب بعض ایسے علاقوں میں نئے معلوماتی مراکز پانی کے ذخائر پر انحصار کر رہے ہیں جنہیں پہلے ہی خشک سالی کا سامنا ہے۔ 

یہ رپورٹ بڑھتے ہوئے الیکٹرانک فضلےکے مسئلے کے بارے میں بھی خبردار کرتی ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ سالانہ 25 لاکھ ٹن تک الیکٹرانک فضلہ پیدا کرے گا۔ اس بوجھ کا بڑا حصہ کم آمدنی والے ایسے ممالک پر پڑنے کا خدشہ ہے جہاں محفوظ طریقے سے فضلہ ٹھکانے لگانے کی صلاحیت محدود ہے۔

مزید برآں، مصنوعی ذہانت کے ہارڈویئر کی تیاری کے لیے درکار معدنیات کی کان کنی بھی ماحولیاتی تباہی اور سماجی ناانصافی کے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔

ڈیجیٹل خلیج اور معاشی ناانصافی

مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار توسیع اس ٹیکنالوجی پر اثرورسوخ کے حوالے سے بھی ایک بڑی خلیج پیدا کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے مخصوص کمپیوٹنگ صلاحیت کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ صرف امریکہ اور چین میں مرکوز ہے جبکہ 150 سے زیادہ ممالک کے پاس مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت کا قابل ذکر بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔

یہ عدم توازن نہ صرف معاشی مواقع کو محدود کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی انصاف کے حوالے سے بھی اہم سوالات کھڑے کرتا ہے کیونکہ بعض ممالکاس ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نقصانات تو برداشت کرتے ہیں لیکن اس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت

‘یو این یو’کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹمصنوعی ذہانت کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ایسے انداز میں ہونی چاہیے جس میں کرہ ارض کے قدرتی وسائل کو نقصان نہ پہنچے۔

رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ درانہ ماحولیاتی نظام کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس کی بنیاد شفافیت، تیاری کے مرحلے سے ہی وسائل کی بچت، مساوات، عالمی تعاون اور پائیدار استعمال جیسے اصولوں پر رکھی گئی ہے۔

اس میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو توانائی، پانی اور زمین کے استعمال سے متعلق اپنی قومی منصوبہ بندی کا حصہ بنائیں جبکہ کمپنیوں کو ایسے نظام تیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جن میں کم سے کم وسائل استعمال ہوں۔ صارفین بھی ایسی ایپلی کیشنز کا انتخاب کر کے اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں جن کے ماحولیات پر منفی اثرات کم سے کم رہیں۔

un news