Last Updated on June 9, 2026 3:21 pm by BIZNAMA NEWS

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ گزشتہ چھ دہائیوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک یعنی گوشت دودھ، اور انڈوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے تاہم دنیا میں سبھی لوگ اس سے یکساں طور پر مستفید نہیں ہو رہے۔
ادارے کی جانب سے ‘جانوروں سے حاصل کردہ خوراک کی رسد و طلب کے محرکات: دستیاب معلومات اور ان کی کمی سے متعلق پالیسی جائزہ’ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیا جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک کا سب سے بڑا پیداواری خطہ بن چکا ہے جبکہ یورپ دوسرے نمبر پر ہے۔ تاہم غذائی پیداوار میں اضافہ ہمیشہ اس کی دستیابی میں اضافے کی ضمانت نہیں ہوتا۔
فی کس دستیاب خوراک کے لحاظ سے شمالی امریکہ سرفہرست ہے، جبکہ سب سے بڑا پیداواری خطہ ہونے کے باوجود ایشیا میں اس کی فی کس دستیابی قدرے کم ہے۔ ذیلی صحارا افریقہ میں فی کس فراہمی مجموعی طور پر جمود کا شکار رہی ہے۔ خوراک کے ضیاع اور نقصان کی وجہ سے یہ تفاوت مزید بڑھ جاتا ہے جو کہ پائیدار غذائی نظام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
یہ رپورٹ غذائی تحفظ، پائیدار زرعی و غذائی نظام، غذائیت اور صحت مند خوراک میں جانوروں (لائیو سٹاک) کے کردار کا سائنسی بنیادوں پر جامع عالمی تجزیہ پیش کرتی ہے۔
گوشت کی پیداوار میں 5 گنا اضافہ
رپورٹ کے مطابق، 1961 سے 2022 کے درمیان جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں کی عالمی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مرغی کے گوشت کی پیداوار میں تقریباً پانچ گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ انڈوں اور سور کے گوشت کی پیداوار تقریباً دوگنا بڑھ گئی۔ اس سے برعکس گائے اور بیل کے گوشت کی پیداوار کئی خطوں میں یا تو مستحکم رہی یا اس میں کمی آئی۔
1961 میں گوشت کی مجموعی پیداوار 7 کروڑ 10 لاکھ ٹن تھی جو 2022 میں 36 کروڑ 10 لاکھ ٹن تک جا پہنچی۔ دودھ کی پیداوار 34 کروڑ 20 لاکھ ٹن سے 93 کروڑ ٹن ہو گئی جبکہ انڈوں کی پیداوار ڈیڑھ کروڑ ٹن سے بڑھ کر9 کروڑ 40 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی ہے۔
حشرات کے بطور خوراک استعمال سے متعلق اعداد و شمار محدود ہیں اور زیادہ تر معلومات افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ سے حاصل ہوئی ہیں۔ تاہم، دستیاب اندازوں کے مطابق آج دنیا میں تقریباً 1,900 اقسام کے حشرات خوراک کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
خوراک کے ضیاع کا مسئلہ
دنیا بھر میں پیدا ہونے والی تقریباً ایک تہائی خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جس میں جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں کا تقریباً 14 فیصد حصہ شامل ہے۔
یہ نقصانات عموماً ان غذاؤں کی جَلد خراب ہونے والی نوعیت، انہیں ٹھنڈا رکھنے کی ناکافی سہولیات اور درجہ حرارت کے ناقص انتظام سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ مسائل خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں کہیں زیادہ شدید ہیں۔
مویشی بانی کے مسائل
رپورٹ کے دیباچے میں ‘ایف اے او’ کے نائب ڈائریکٹر جنرل گوڈفرے میگویزی اور ماہر اقتصادیات میکسیمو توریرو لکھتے ہیں کہ دنیا میں مویشیوں کی بے شمار نسلیں اور اقسام مختلف ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحت بخش اور متنوع غذاؤں کی فراہمی میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ تاہم انسانی اور ارضی صحت کے لیے اس کردار کو مزید موثر بنانے کے لیے مویشی بانی کے شعبے کو متعدد مسائل سے نمٹنا ہو گا۔
ان میں جنگلات کی کٹائی، زمین کے استعمال میں تبدیلی، گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، زمین اور پانی کا ناپائیدار استعمال، آلودگی اور دیگر شامل ہیں۔
علاوہ ازیں، مویشیوں کی کم پیداوار، حد سے زیادہ چرائی، جانوروں کی فلاح و بہبود کے مسائل، جانوروں کی صحت سے متعلق خدشات اور سماجی ناہمواری جیسے مسائل بھی درپیش ہیں۔
رپورٹ میں انسانوں اور مویشیوں کے درمیان بڑھتے روابط سے پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، جن میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریاں، خوراک سے پھیلنے والے امراض اور جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت شامل ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر ان امور پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں ناصرف خوراک کی فراہمی میں کمی آئے گی بلکہ ماحول اور انسانی صحت کے لیے بھی سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
