Last Updated on July 4, 2026 11:44 am by BIZNAMA NEWS

S N VERMA

اندھرا پردیش میں پروسیسنگ کے لیے مشہور ‘توتاپوری آم’ کی قیمتوں میں اچانک اور ریکارڈ توڑ کمی نے ایک بڑا زرعی و معاشی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ کسانوں کی بگڑتی ہوئی معاشی حالت اور مارکیٹ کے اس بڑے جھٹکے کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزیر برائے زراعت و کسان بہبود، شیوراج سنگھ چوہان نے فوری مداخلت کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے اس ایگری بزنس سیکٹر کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور پوری سپلائی چین کو ازسرنو منظم کرنے کے لیے ہنگامی احکامات جاری کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ توتاپوری آم عام طور پر براہ راست کھانے کے بجائے صنعتی سطح پر گودا (Pulp)، جوس اور دیگر مصنوعات تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ اندھرا پردیش کی زرعی معیشت کا ایک بڑا تجارتی ستون ہے۔ تاہم، مارکیٹ کریش ہونے کی وجہ سے کسانوں کی لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی، جس نے دیہی کاروبار اور اس سے وابستہ صنعتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ویلیو چین کی اصلاح کے لیے ہائی لیول کمیٹی کا قیام

اس تجارتی بحران کا فوری اور پائیدار حل نکالنے کے لیے انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (ICAR) نے ایک اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ لکھنؤ کے نامور ادارے ICAR-CISH کے ڈائریکٹر ڈاکٹر دامودرن کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر کے صفِ اول کے زرعی سائنسدان اور باغبانی کے ماہرین اس کا حصہ ہیں۔

وزیر موصوف نے کمیٹی کو صرف 10 دن کی سخت مہلت دی ہے جس کے دوران وہ اندھرا پردیش کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے زمینی حقائق کا جائزہ لیں گے۔ یہ ٹیم صرف سرکاری اعداد و شمار پر بھروسہ کرنے کے بجائے براہِ راست کسانوں، انڈسٹری مالکان، اور برآمد کنندگان (Exporters) سے ملاقاتیں کرے گی۔

بزنس ماڈل اور مارکیٹ آڈٹ کے اہم نکات

کمیٹی اس بحران کو محض ایک زرعی مسئلہ نہیں بلکہ ایک کاروباری رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کے تحت درج ذیل امور پر فوکس کیا جائے گا:

  • کمرشل مارجن کا تعین: کسانوں کی اصل پیداواری لاگت اور مارکیٹ کی موجودہ قیمتوں کا موازنہ کرنا تاکہ نقصان کا درست تعین ہو سکے۔
  • صنعتی طلب و رسد (Demand & Supply): فوڈ پروسیسنگ پلانٹس کی موجودہ گنجائش، ان کے پاس موجود اسٹاک اور ان کی حقیقی مانگ کا جائزہ لینا۔
  • عالمی و ملکی منڈیوں کا تجزیہ: توتاپوری آم کے نرخ اچانک گرنے کی بنیادی وجوہات (خواہ وہ عالمی منڈی کی مندی ہو یا مقامی خریداروں کی اجارہ داری) کو تلاش کرنا۔

پائیدار زرعی سرمایہ کاری کا نیا رخ

یہ کمیٹی اپنی تفصیلی رپورٹ براہ راست زراعت کے مرکزی وزیر کو پیش کرے گی، جو مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے ایک اہم ‘بلیو پرنٹ’ ثابت ہوگی۔ حکومت کا ارادہ مرکز اور ریاست کی سطح پر ایک مشترکہ ایکشن پلان نافذ کرنے کا ہے تاکہ قیمتوں کو فوری طور پر مستحکم کیا جا سکے اور کسانوں کی تنظیموں (FPOs) کو براہِ راست بڑی کارپوریٹ کمپنیوں سے جوڑا جا سکے۔

اس تزویراتی (Strategic) اقدام کا مقصد کاشتکاروں، پروسیسنگ صنعتوں اور برآمد کنندگان کے کاروباری مفادات میں توازن پیدا کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں نہ صرف کسانوں کی آمدنی محفوظ ہو بلکہ فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں نئی نجی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں۔