Last Updated on June 9, 2026 2:14 pm by BIZNAMA NEWS

بون (نمائندہ خصوصی / مانیٹرنگ ڈیسک)

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (UNFCCC) کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی اور موثر اقدامات کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فاسل فیول (معدنی ایندھن) پر مسلسل انحصار عالمی معاشی عدم استحکام، مہنگائی اور کمزور آبادیوں کے تحفظ کو شدید خطرات میں ڈال رہا ہے۔

جرمنی کے شہر بون میں اقوام متحدہ کی آئندہ عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 31) کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ ششماہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سائمن سٹیئل کا کہنا تھا:

“موسمیاتی بحران سے نمٹنا بلاشبہ موجودہ دور کا سب سے مشکل لیکن اہم ترین کام ہے۔ یہ اب انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے، کیونکہ انسانیت کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں اور دنیا کی ہر معیشت کا مستقبل اسی سے جڑا ہوا ہے۔”

بون اجلاس: کلیدی موضوعات اور اہمیت

یہ اہم اجلاس ایک ایسے نازک وقت پر ہو رہا ہے جب دنیا شدید ترین موسمیاتی تبدیلیوں، توانائی کے تحفظ کے بحران، خوراک کے نظام پر دباؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے نبردآزما ہے۔ آئندہ دو ہفتوں تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں مندوبین تکنیکی اور سیاسی امور پر پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

اجلاس کے دوران درج ذیل اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے:

  • موسمیاتی مالیات (Climate Finance): غریب اور متاثرہ ممالک کے لیے فنڈز کی فراہمی۔
  • گرین انرجی کی منتقلی: قابل تجدید توانائی کے نظام کی جانب منصفانہ سفر۔
  • پیرس معاہدے کا جائزہ: دسمبر 2023 میں دبئی (کاپ 28) میں مکمل ہونے والے پہلے عالمی جائزے کے نتائج پر عملدرآمد۔

اقدامات کی ناکافی رفتار اور فاسل فیول کے نقصانات

سائمن سٹیئل نے اعتراف کیا کہ اگرچہ عالمی سطح پر کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور دنیا ماضی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن پر ہے، لیکن موجودہ اقدامات کی رفتار اب بھی انتہائی سست ہے۔ عوام اب بیانات کے بجائے فوری اور بڑے پیمانے پر نتائج چاہتے ہیں۔

معدنی ایندھن کے نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ، شدید گرمی کی لہروں اور ال نینو کے اثرات نے توانائی کی قیمتوں کا بحران پیدا کیا ہے۔ حقیقت صاف ہے؛ فاسل فیول پر انحصار برقرار رکھنے کا مطلب معاشی خودمختاری اور پالیسی سازی کی آزادی کو قربان کرنا ہے، جس کا خمیازہ غریب عوام مہنگائی اور موسمیاتی آفات کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

پیرس معاہدے کو سادہ اور موثر بنانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے عہدیدار نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ پیرس معاہدے کے تحت طے پانے والے منصوبوں پر عملدرآمد تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حکومتوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے موسمیاتی عمل کو زیادہ سادہ اور موثر بنانے کا مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ سیکرٹریٹ ان شکایات کے ازالے اور ممالک کی رہنمائی کے لیے تیار ہے، تاہم حتمی فیصلے اور عملی اقدامات خود رکن ممالک کو ہی کرنے ہوں گے۔