Last Updated on June 7, 2026 2:09 pm by BIZNAMA NEWS
عندلیب اختر
بھارت آج دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ڈیجیٹل ادائیگیوں نے معاشی سرگرمیوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی)، موبائل والیٹس اور آن لائن بینکنگ کی بدولت روزانہ اربوں روپے کے لین دین چند سیکنڈ میں انجام پاتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھارت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رہنما ملک سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر یہ خبر سامنے آئے کہ بھارتی ریزرو بینک پلاسٹک یا پولیمر کرنسی نوٹ متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے تو بظاہر یہ ایک غیر ضروری اقدام محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔
عام تاثر یہ تھا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پھیلاؤ کے ساتھ نقد رقم کا استعمال کم ہوتا جائے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ڈیجیٹل اور نقد دونوں نظام ایک ساتھ ترقی کر رہے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی حالیہ سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران زیر گردش کرنسی میں 11 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے تقریباً دوگنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آن لائن ادائیگیوں کی تیز رفتار ترقی کے باوجود نقد رقم کی ضرورت اور استعمال برقرار ہے۔
یہ صورتحال ریزرو بینک کے لیے ایک نئی ذمہ داری پیدا کرتی ہے۔ صرف کرنسی چھاپنا ہی کافی نہیں بلکہ اسے زیادہ محفوظ، پائیدار اور کم لاگت بنانا بھی ضروری ہے۔ موجودہ کاغذی نوٹوں کی چھپائی، نقل و حمل اور متبادل فراہمی پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔ صرف 2024-25 میں نوٹوں کی چھپائی پر 6300 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے۔ اسی عرصے میں تقریباً 24 ارب بوسیدہ اور خراب نوٹ گردش سے واپس لیے گئے، جنہیں تبدیل کرنے کے لیے مزید وسائل درکار ہوئے۔
سب سے زیادہ مسئلہ 10 اور 20 روپے جیسے چھوٹے مالیت کے نوٹوں میں پیش آتا ہے۔ یہ نوٹ روزانہ ہزاروں ہاتھوں سے گزرتے ہیں، جلد پھٹ جاتے ہیں اور گندگی و نمی سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریزرو بینک چھوٹے مالیت کے نوٹوں کے لیے پولیمر کرنسی کے تجرباتی منصوبے پر غور کر رہا ہے۔
پولیمر نوٹ دراصل ایک خاص قسم کے باریک اور مضبوط پلاسٹک سے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ عام کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔ نمی، گردوغبار، پانی اور پھٹنے کے خلاف ان کی مزاحمت زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ ان کی تیاری کی ابتدائی لاگت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ زیادہ اقتصادی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ انہیں بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
دنیا کے کئی ممالک اس تجربے سے گزر چکے ہیں۔ آسٹریلیا اس شعبے کا علمبردار سمجھا جاتا ہے جہاں سب سے پہلے پولیمر کرنسی متعارف کرائی گئی۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق کاغذی نوٹ جو پہلے صرف چند ماہ چلتے تھے، پولیمر نوٹوں کی صورت میں کئی سال تک قابل استعمال رہے۔ اس سے نہ صرف چھپائی کے اخراجات کم ہوئے بلکہ نقل و حمل، گنتی اور تلف کرنے کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئی۔
آج کینیڈا، برطانیہ، نیوزی لینڈ، سنگاپور اور متعدد دیگر ممالک پولیمر کرنسی استعمال کر رہے ہیں۔ ان ممالک نے اس تبدیلی کو صرف پائیداری کی وجہ سے نہیں اپنایا بلکہ سکیورٹی کے نقطہ نظر سے بھی اسے بہتر پایا۔ پولیمر نوٹوں میں شفاف ونڈو، مائیکرو آپٹیکل عناصر اور جدید حفاظتی خصوصیات شامل کی جا سکتی ہیں جن کی نقل تیار کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس طرح جعلی کرنسی کے خطرات میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔
ماحولیاتی اعتبار سے بھی پولیمر نوٹ ایک مثبت قدم سمجھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی مطالعات کے مطابق یہ نوٹ اپنی پوری عمر کے دوران کم وسائل استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ استعمال کے بعد انہیں ری سائیکل کر کے دیگر پلاسٹک مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یوں کرنسی کے نظام کو زیادہ ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم بھارت کے لیے یہ راستہ مکمل طور پر ہموار نہیں۔ ملک نے 2012 میں بھی پولیمر نوٹ متعارف کرانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس وقت تکنیکی مسائل کے باعث منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ پرانے اے ٹی ایم، کرنسی گنتی کی مشینیں اور دیگر نقدی انتظامی نظام پولیمر نوٹوں کے ساتھ مکمل مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے اگر نئی کرنسی متعارف کرائی جاتی ہے تو ملک بھر کے بینکاری اور نقدی انتظامی ڈھانچے کو بھی جدید بنانا ہوگا۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے اس دور میں پولیمر کرنسی کا تصور بظاہر متضاد محسوس ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی معیشت ابھی مکمل طور پر نقدی سے آزاد نہیں ہوئی۔ دیہی علاقوں، چھوٹے کاروباروں اور روزمرہ کے لاکھوں لین دین میں نقد رقم آج بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسے میں زیادہ محفوظ، دیرپا اور کم خرچ کرنسی کا متبادل وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔
اگر ریزرو بینک اس منصوبے کو کامیابی سے نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بھارت ایک ایسے مالیاتی نظام کی جانب بڑھ سکتا ہے جہاں ڈیجیٹل ادائیگیاں اور جدید پولیمر کرنسی ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے معیشت کو زیادہ موثر، محفوظ اور پائیدار بنا سکیں گی۔ یہی شاید مستقبل کی معیشت کا حقیقی ماڈل ہو، جہاں ٹیکنالوجی اور نقدی ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ شراکت دار ہوں۔

